صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ ہود کی آیت (6) کی تفسیر
﴿ ۞ وَما مِن دابَّةٍ فِى الأَرضِ إِلّا عَلَى اللَّهِ رِزقُها وَيَعلَمُ مُستَقَرَّها وَمُستَودَعَها ۚ كُلٌّ فى كِتٰبٍ مُبينٍ ﴾
زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ پر ہیں(1) وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہےاور ان کے سونپے جانے(2) کی جگہ کو بھی، سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے.
سورہ ہود کی آیت (7) کی تفسیر
﴿ وَهُوَ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ فى سِتَّةِ أَيّامٍ وَكانَ عَرشُهُ عَلَى الماءِ لِيَبلُوَكُم أَيُّكُم أَحسَنُ عَمَلًا ۗ وَلَئِن قُلتَ إِنَّكُم مَبعوثونَ مِن بَعدِ المَوتِ لَيَقولَنَّ الَّذينَ كَفَروا إِن هٰذا إِلّا سِحرٌ مُبينٌ ﴾
اللہ ہی وه ہے جس نے چھ دن میں آسمان وزمین کو پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا(1) تاکہ وه تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل واﻻ کون ہے(2)، اگر آپ ان سے کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد اٹھا کھڑے کئے جاؤ گے تو کافر لوگ پلٹ کر جواب دیں گے کہ یہ تو نرا صاف صاف جادو ہی ہے.
سورہ ہود کی آیت (8) کی تفسیر
﴿ وَلَئِن أَخَّرنا عَنهُمُ العَذابَ إِلىٰ أُمَّةٍ مَعدودَةٍ لَيَقولُنَّ ما يَحبِسُهُ ۗ أَلا يَومَ يَأتيهِم لَيسَ مَصروفًا عَنهُم وَحاقَ بِهِم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ ﴾
اور اگر ہم ان سے عذاب کو گنی چنی مدت تک کے لئے پیچھے ڈال دیں تو یہ ضرور پکار اٹھیں گے کہ عذاب کو کون سی چیز روکے ہوئے ہے، سنو! جس دن وه ان کے پاس آئے گا پھر ان سے ٹلنے واﻻ نہیں پھر تو جس چیز کی ہنسی اڑا رہے تھے وه انہیں گھیر لے گی.(1)
سورہ ہود کی آیت (9) کی تفسیر
﴿ وَلَئِن أَذَقنَا الإِنسٰنَ مِنّا رَحمَةً ثُمَّ نَزَعنٰها مِنهُ إِنَّهُ لَيَـٔوسٌ كَفورٌ ﴾
اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی نعمت کا ذائقہ چکھا کر پھر اسے اس سے لے لیں تو وه بہت ہی ناامید اور بڑا ہی ناشکرا بن جاتا ہے.(1)
سورہ ہود کی آیت (10) کی تفسیر
﴿ وَلَئِن أَذَقنٰهُ نَعماءَ بَعدَ ضَرّاءَ مَسَّتهُ لَيَقولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّـٔاتُ عَنّى ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخورٌ ﴾
اور اگر ہم اسے کوئی نعمت چکھائیں اس سختی کے بعد جو اسے پہنچ چکی تھی تو وه کہنے لگتا ہے کہ بس برائیاں مجھ سے جاتی رہیں(1) ، یقیناً وه بڑا ہی اترانے واﻻ شیخی خور ہے.(2)
سورہ ہود کی آیت (11) کی تفسیر
﴿ إِلَّا الَّذينَ صَبَروا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ أُولٰئِكَ لَهُم مَغفِرَةٌ وَأَجرٌ كَبيرٌ ﴾
سوائے ان کے جو صبر کرتے ہیں اور نیک کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ انہی لوگوں کے لئے بخشش بھی ہے اور بہت بڑا نیک(1) بدلہ بھی.
سورہ ہود کی آیت (12) کی تفسیر
﴿ فَلَعَلَّكَ تارِكٌ بَعضَ ما يوحىٰ إِلَيكَ وَضائِقٌ بِهِ صَدرُكَ أَن يَقولوا لَولا أُنزِلَ عَلَيهِ كَنزٌ أَو جاءَ مَعَهُ مَلَكٌ ۚ إِنَّما أَنتَ نَذيرٌ ۚ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ وَكيلٌ ﴾
پس شاید کہ آپ اس وحی کے کسی حصے کو چھوڑ دینے والے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی جاتی ہے اور اس سے آپ کا دل تنگ ہے، صرف ان کی اس بات پر کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اترا؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہی آتا، سن لیجئے! آپ تو صرف ڈرانے والے ہی ہیں(1) اور ہر چیز کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے.
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔