صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الرعد کی آیت (6) کی تفسیر
﴿ وَيَستَعجِلونَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبلَ الحَسَنَةِ وَقَد خَلَت مِن قَبلِهِمُ المَثُلٰتُ ۗ وَإِنَّ رَبَّكَ لَذو مَغفِرَةٍ لِلنّاسِ عَلىٰ ظُلمِهِم ۖ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَديدُ العِقابِ ﴾
اور جو تجھ سے (سزا کی طلبی میں) جلد کر رہے ہیں راحت سے پہلے ہی، یقیناً ان سے پہلے سزائیں (بطور مثال) گزر چکی ہیں(1) ، اور بیشک تیرا رب البتہ بخشنے واﻻ ہے لوگوں کے بے جا ﻇلم پر بھی(2)۔ اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ تیرا رب بڑی سخت سزا دینے واﻻ بھی ہے.(3)
سورہ الرعد کی آیت (7) کی تفسیر
﴿ وَيَقولُ الَّذينَ كَفَروا لَولا أُنزِلَ عَلَيهِ ءايَةٌ مِن رَبِّهِ ۗ إِنَّما أَنتَ مُنذِرٌ ۖ وَلِكُلِّ قَومٍ هادٍ ﴾
اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزه) کیوں نہیں اتاری گئی۔ بات یہ ہے کہ آپ تو صرف آگاه کرنے والے ہیں.(1) ۔ اور ہر قوم کے لئے ہادی ہے.(2)
سورہ الرعد کی آیت (8) کی تفسیر
﴿ اللَّهُ يَعلَمُ ما تَحمِلُ كُلُّ أُنثىٰ وَما تَغيضُ الأَرحامُ وَما تَزدادُ ۖ وَكُلُّ شَيءٍ عِندَهُ بِمِقدارٍ ﴾
ماده اپنے شکم میں جو کچھ رکھتی ہے اسے اللہ بخوبی جانتا ہے(1) اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی(2)، ہر چیز اس کے پاس اندازے سے ہے.(3)
سورہ الرعد کی آیت (9) کی تفسیر
﴿ عٰلِمُ الغَيبِ وَالشَّهٰدَةِ الكَبيرُ المُتَعالِ ﴾
ﻇاہر وپوشیده کا وه عالم ہے (سب سے) بڑا اور (سب سے) بلند وباﻻ.
سورہ الرعد کی آیت (10) کی تفسیر
﴿ سَواءٌ مِنكُم مَن أَسَرَّ القَولَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَن هُوَ مُستَخفٍ بِالَّيلِ وَسارِبٌ بِالنَّهارِ ﴾
تم میں سے کسی کا اپنی بات کو چھپا کر کہنا اور بﺂواز بلند اسے کہنا اور جو رات کو چھپا ہوا ہو اور جو دن میں چل رہا ہو، سب اللہ پر برابر ویکساں ہیں.
سورہ الرعد کی آیت (11) کی تفسیر
﴿ لَهُ مُعَقِّبٰتٌ مِن بَينِ يَدَيهِ وَمِن خَلفِهِ يَحفَظونَهُ مِن أَمرِ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لا يُغَيِّرُ ما بِقَومٍ حَتّىٰ يُغَيِّروا ما بِأَنفُسِهِم ۗ وَإِذا أَرادَ اللَّهُ بِقَومٍ سوءًا فَلا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَما لَهُم مِن دونِهِ مِن والٍ ﴾
اس کے پہرے دار(1) انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا جب تک کہ وه خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے(2)۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی سزا کا اراده کر لیتا ہے تو وه بدﻻ نہیں کرتا اور سوائے اس کے کوئی بھی ان کا کارساز نہیں.
سورہ الرعد کی آیت (12) کی تفسیر
﴿ هُوَ الَّذى يُريكُمُ البَرقَ خَوفًا وَطَمَعًا وَيُنشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ ﴾
وه اللہ ہی ہے جو تمہیں بجلی کی چمک ڈرانے اور امید دﻻنے کے لئے دکھاتا ہے(1) اور بھاری بادلوں کو پیدا کرتا ہے.(2)
سورہ الرعد کی آیت (13) کی تفسیر
﴿ وَيُسَبِّحُ الرَّعدُ بِحَمدِهِ وَالمَلٰئِكَةُ مِن خيفَتِهِ وَيُرسِلُ الصَّوٰعِقَ فَيُصيبُ بِها مَن يَشاءُ وَهُم يُجٰدِلونَ فِى اللَّهِ وَهُوَ شَديدُ المِحالِ ﴾
گرج اس کی تسبیح وتعریف کرتی ہے اور فرشتے بھی، اس کے خوف سے(1) ۔ وہی آسمان سے بجلیاں گراتا ہے اور جس پر چاہتا ہے اس پر ڈالتا ہے(2) کفار اللہ کی بابت لڑ جھگڑ رہے ہیں اور اللہ سخت قوت والا ہے.(3)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔