صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الحج کی آیت (39) کی تفسیر
﴿ أُذِنَ لِلَّذينَ يُقٰتَلونَ بِأَنَّهُم ظُلِموا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلىٰ نَصرِهِم لَقَديرٌ ﴾
جن (مسلمانوں) سے (کافر) جنگ کر رہے ہیں انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وه مظلوم ہیں(1) ۔ بیشک ان کی مدد پر اللہ قادر ہے.
سورہ الحج کی آیت (40) کی تفسیر
﴿ الَّذينَ أُخرِجوا مِن دِيٰرِهِم بِغَيرِ حَقٍّ إِلّا أَن يَقولوا رَبُّنَا اللَّهُ ۗ وَلَولا دَفعُ اللَّهِ النّاسَ بَعضَهُم بِبَعضٍ لَهُدِّمَت صَوٰمِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوٰتٌ وَمَسٰجِدُ يُذكَرُ فيهَا اسمُ اللَّهِ كَثيرًا ۗ وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزيزٌ ﴾
یہ وه ہیں جنہیں ناحق اپنے گھروں سے نکالا گیا، صرف ان کےاس قول پر کہ ہمارا پروردگار فقط اللہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو عبادت خانے اور گرجے اور مسجدیں اور یہودیوں کے معبد اور وه مسجدیں بھی ڈھا دی جاتیں جہاں اللہ کا نام بہ کثرت لیا جاتا ہے۔ جو اللہ کی مدد کرے گا اللہ بھی ضرور اس کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں واﻻ بڑے غلبے واﻻ ہے.
سورہ الحج کی آیت (41) کی تفسیر
﴿ الَّذينَ إِن مَكَّنّٰهُم فِى الأَرضِ أَقامُوا الصَّلوٰةَ وَءاتَوُا الزَّكوٰةَ وَأَمَروا بِالمَعروفِ وَنَهَوا عَنِ المُنكَرِ ۗ وَلِلَّهِ عٰقِبَةُ الأُمورِ ﴾
یہ وه لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں(1) ۔ تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے.(2)
سورہ الحج کی آیت (42) کی تفسیر
﴿ وَإِن يُكَذِّبوكَ فَقَد كَذَّبَت قَبلَهُم قَومُ نوحٍ وَعادٌ وَثَمودُ ﴾
اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں (تو کوئی تعجب کی بات نہیں) تو ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور ﺛمود.
سورہ الحج کی آیت (43) کی تفسیر
﴿ وَقَومُ إِبرٰهيمَ وَقَومُ لوطٍ ﴾
اور قوم ابراہیم اور قوم لوط.
سورہ الحج کی آیت (44) کی تفسیر
﴿ وَأَصحٰبُ مَديَنَ ۖ وَكُذِّبَ موسىٰ فَأَملَيتُ لِلكٰفِرينَ ثُمَّ أَخَذتُهُم ۖ فَكَيفَ كانَ نَكيرِ ﴾
اور مدین والے بھی اپنے اپنے نبیوں کو جھٹلا چکے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جھٹلائے جا چکے ہیں پس میں نے کافروں کو یوں ہی سی مہلت دی پھر دھر دبایا(1) ، پھر میرا عذاب کیسا ہوا؟(2)
سورہ الحج کی آیت (45) کی تفسیر
﴿ فَكَأَيِّن مِن قَريَةٍ أَهلَكنٰها وَهِىَ ظالِمَةٌ فَهِىَ خاوِيَةٌ عَلىٰ عُروشِها وَبِئرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصرٍ مَشيدٍ ﴾
بہت سی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تہ وباﻻ کر دیا اس لئے کہ وه ﻇالم تھے پس وه اپنی چھتوں کے بل اوندھی ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے آباد کنوئیں بیکار پڑے ہیں اور بہت سے پکے اور بلند محل ویران پڑے ہیں.
سورہ الحج کی آیت (46) کی تفسیر
﴿ أَفَلَم يَسيروا فِى الأَرضِ فَتَكونَ لَهُم قُلوبٌ يَعقِلونَ بِها أَو ءاذانٌ يَسمَعونَ بِها ۖ فَإِنَّها لا تَعمَى الأَبصٰرُ وَلٰكِن تَعمَى القُلوبُ الَّتى فِى الصُّدورِ ﴾
کیا انہوں نے زمین میں سیر وسیاحت نہیں کی جو ان کے دل ان باتوں کے سمجھنے والے ہوتے یا کانوں سے ہی ان (واقعات) کو سن لیتے، بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وه دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں.(1)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔