صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ القصص کی آیت (29) کی تفسیر
﴿ ۞ فَلَمّا قَضىٰ موسَى الأَجَلَ وَسارَ بِأَهلِهِ ءانَسَ مِن جانِبِ الطّورِ نارًا قالَ لِأَهلِهِ امكُثوا إِنّى ءانَستُ نارًا لَعَلّى ءاتيكُم مِنها بِخَبَرٍ أَو جَذوَةٍ مِنَ النّارِ لَعَلَّكُم تَصطَلونَ ﴾
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مدت(1) پوری کرلی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے(2) تو کوه طور کی طرف آگ دیکھی۔ اپنی بیوی سے کہنے لگے ٹھہرو! میں نے آگ دیکھی ہے بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے کوئی خبر ﻻؤں یا آگ کا کوئی انگاره ﻻؤں تاکہ تم سینک لو.
سورہ القصص کی آیت (30) کی تفسیر
﴿ فَلَمّا أَتىٰها نودِىَ مِن شٰطِئِ الوادِ الأَيمَنِ فِى البُقعَةِ المُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يٰموسىٰ إِنّى أَنَا اللَّهُ رَبُّ العٰلَمينَ ﴾
پس جب وہاں پہنچے تو اس بابرکت زمین کے میدان کے دائیں کنارے کے درخت میں سے آواز دیئے گئے(1) کہ اے موسیٰ! یقیناً میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار.(2)
سورہ القصص کی آیت (31) کی تفسیر
﴿ وَأَن أَلقِ عَصاكَ ۖ فَلَمّا رَءاها تَهتَزُّ كَأَنَّها جانٌّ وَلّىٰ مُدبِرًا وَلَم يُعَقِّب ۚ يٰموسىٰ أَقبِل وَلا تَخَف ۖ إِنَّكَ مِنَ الءامِنينَ ﴾
اور یہ (بھی آواز آئی) کہ اپنی ﻻٹھی ڈال دے۔ پھر جب اسے دیکھا کہ وه سانﭗ کی طرح پھن پھنا رہی ہے تو پیٹھ پھیر کر واپس ہوگئے اور مڑ کر رخ بھی نہ کیا، ہم نے کہا اے موسیٰ! آگے آ ڈر مت، یقیناً تو ہر طرح امن واﻻ ہے.(1)
سورہ القصص کی آیت (32) کی تفسیر
﴿ اسلُك يَدَكَ فى جَيبِكَ تَخرُج بَيضاءَ مِن غَيرِ سوءٍ وَاضمُم إِلَيكَ جَناحَكَ مِنَ الرَّهبِ ۖ فَذٰنِكَ بُرهٰنانِ مِن رَبِّكَ إِلىٰ فِرعَونَ وَمَلَإِي۟هِ ۚ إِنَّهُم كانوا قَومًا فٰسِقينَ ﴾
اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال وه بغیر کسی قسم کے روگ کے چمکتا ہوا نکلے گا بالکل سفید(1) اور خوف سے (بچنے کے لیے) اپنے بازو اپنی طرف ملا لے(2)، پس یہ دونوں معجزے تیرے لیے تیرے رب کی طرف سے ہیں فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، یقیناً وه سب کے سب بےحکم اور نافرمان لوگ ہیں.(3)
سورہ القصص کی آیت (33) کی تفسیر
﴿ قالَ رَبِّ إِنّى قَتَلتُ مِنهُم نَفسًا فَأَخافُ أَن يَقتُلونِ ﴾
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا پروردگار! میں نے ان کا ایک آدمی قتل کر دیا تھا۔ اب مجھے اندیشہ ہے کہ وه مجھے بھی قتل کر ڈالیں.(1)
سورہ القصص کی آیت (34) کی تفسیر
﴿ وَأَخى هٰرونُ هُوَ أَفصَحُ مِنّى لِسانًا فَأَرسِلهُ مَعِىَ رِدءًا يُصَدِّقُنى ۖ إِنّى أَخافُ أَن يُكَذِّبونِ ﴾
اور میرا بھائی ہارون (علیہ السلام) مجھ سے بہت زیاده فصیح زبان واﻻ ہے تو اسے بھی میرا مددگار بنا کر میرے ساتھ بھیج(1) کہ وه مجھے سچا مانے، مجھے تو خوف ہے کہ وه سب مجھے جھٹلا دیں گے.
سورہ القصص کی آیت (35) کی تفسیر
﴿ قالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخيكَ وَنَجعَلُ لَكُما سُلطٰنًا فَلا يَصِلونَ إِلَيكُما ۚ بِـٔايٰتِنا أَنتُما وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الغٰلِبونَ ﴾
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو مضبوط کردیں گے(1) اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے فرعونی تم تک پہنچ ہی نہ سکیں گے(2)، بسبب ہماری نشانیوں کے، تم دونوں اور تمہاری تابعداری کرنے والے ہی غالب رہیں گے.(3)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔