صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ یونس کی آیت (26) کی تفسیر
﴿ ۞ لِلَّذينَ أَحسَنُوا الحُسنىٰ وَزِيادَةٌ ۖ وَلا يَرهَقُ وُجوهَهُم قَتَرٌ وَلا ذِلَّةٌ ۚ أُولٰئِكَ أَصحٰبُ الجَنَّةِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ ﴾
جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے خوبی ہے اور مزید برآں بھی(1) اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت، یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں وه اس میں ہمیشہ رہیں گے.
سورہ یونس کی آیت (27) کی تفسیر
﴿ وَالَّذينَ كَسَبُوا السَّيِّـٔاتِ جَزاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثلِها وَتَرهَقُهُم ذِلَّةٌ ۖ ما لَهُم مِنَ اللَّهِ مِن عاصِمٍ ۖ كَأَنَّما أُغشِيَت وُجوهُهُم قِطَعًا مِنَ الَّيلِ مُظلِمًا ۚ أُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ ﴾
اور جن لوگوں نے بدکام کیے ان کی بدی کی سزا اس کے برابر ملے گی(1) اور ان کو ذلت چھائے گی، ان کو اللہ تعالیٰ سے کوئی نہ بچا سکے گا(2)۔ گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے پرت کے پرت لپیٹ دیے گئے ہیں(3)۔ یہ لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں، وه اس میں ہمیشہ رہیں گے.
سورہ یونس کی آیت (28) کی تفسیر
﴿ وَيَومَ نَحشُرُهُم جَميعًا ثُمَّ نَقولُ لِلَّذينَ أَشرَكوا مَكانَكُم أَنتُم وَشُرَكاؤُكُم ۚ فَزَيَّلنا بَينَهُم ۖ وَقالَ شُرَكاؤُهُم ما كُنتُم إِيّانا تَعبُدونَ ﴾
اور وه دن بھی قابل ذکر ہے جس روز ہم ان سب کو جمع کریں(1) گے پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ ٹھہرو(2) پھر ہم ان کے آپس میں پھوٹ ڈال دیں گے (3)اور ان کے وه شرکا کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے.
سورہ یونس کی آیت (29) کی تفسیر
﴿ فَكَفىٰ بِاللَّهِ شَهيدًا بَينَنا وَبَينَكُم إِن كُنّا عَن عِبادَتِكُم لَغٰفِلينَ ﴾
سو ہمارے تمہارے درمیان اللہ کافی ہے گواه کے طور پر، کہ ہم کو تمہاری عبادت کی خبر بھی نہ تھی.(1)
سورہ یونس کی آیت (30) کی تفسیر
﴿ هُنالِكَ تَبلوا كُلُّ نَفسٍ ما أَسلَفَت ۚ وَرُدّوا إِلَى اللَّهِ مَولىٰهُمُ الحَقِّ ۖ وَضَلَّ عَنهُم ما كانوا يَفتَرونَ ﴾
اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کیے ہوئے کاموں کی جانچ کرلے گا (1) اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ جھوٹ باندھا کرتے تھے سب ان سے غائب ہوجائیں گے.(2)
سورہ یونس کی آیت (31) کی تفسیر
﴿ قُل مَن يَرزُقُكُم مِنَ السَّماءِ وَالأَرضِ أَمَّن يَملِكُ السَّمعَ وَالأَبصٰرَ وَمَن يُخرِجُ الحَىَّ مِنَ المَيِّتِ وَيُخرِجُ المَيِّتَ مِنَ الحَىِّ وَمَن يُدَبِّرُ الأَمرَ ۚ فَسَيَقولونَ اللَّهُ ۚ فَقُل أَفَلا تَتَّقونَ ﴾
آپ کہیے کہ وه کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وه کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وه کون ہے جو زنده کو مرده سے نکالتا ہے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے اور وه کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وه یہی کہیں گے کہ اللہ (1) تو ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے.
سورہ یونس کی آیت (32) کی تفسیر
﴿ فَذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الحَقُّ ۖ فَماذا بَعدَ الحَقِّ إِلَّا الضَّلٰلُ ۖ فَأَنّىٰ تُصرَفونَ ﴾
سو یہ ہے اللہ تعالیٰ جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ پھر حق کے بعد اور کیا ره گیا بجز گمراہی کے، پھر کہاں پھرے جاتے ہو؟(2)
سورہ یونس کی آیت (33) کی تفسیر
﴿ كَذٰلِكَ حَقَّت كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذينَ فَسَقوا أَنَّهُم لا يُؤمِنونَ ﴾
اسی طرح آپ کے رب کی یہ بات کہ یہ ایمان نہ ﻻئیں گے، تمام فاسق لوگوں کے حق میں ﺛابت ہوچکی ہے.(1)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔