صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ یونس کی آیت (54) کی تفسیر
﴿ وَلَو أَنَّ لِكُلِّ نَفسٍ ظَلَمَت ما فِى الأَرضِ لَافتَدَت بِهِ ۗ وَأَسَرُّوا النَّدامَةَ لَمّا رَأَوُا العَذابَ ۖ وَقُضِىَ بَينَهُم بِالقِسطِ ۚ وَهُم لا يُظلَمونَ ﴾
اور اگر ہر جان، جس نے ﻇلم (شرک) کیا ہے، کے پاس اتنا ہو کہ ساری زمین بھر جائے تب بھی اس کو دے کر اپنی جان بچانے لگے(1) اور جب عذاب کو دیکھیں گے تو پشیمانی کو پوشیده رکھیں گے۔ اور ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہوگا۔ اور ان پر ﻇلم نہ ہوگا.
سورہ یونس کی آیت (55) کی تفسیر
﴿ أَلا إِنَّ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۗ أَلا إِنَّ وَعدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ ﴾
یاد رکھو کہ جتنی چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب اللہ ہی کی ملک ہیں۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا وعده سچا ہے لیکن بہت سے آدمی علم ہی نہیں رکھتے.
سورہ یونس کی آیت (56) کی تفسیر
﴿ هُوَ يُحيۦ وَيُميتُ وَإِلَيهِ تُرجَعونَ ﴾
وہی جان ڈالتا ہے وہی جان نکالتا ہے اور تم سب اسی کے پاس ﻻئے جاؤ گے.(1)
سورہ یونس کی آیت (57) کی تفسیر
﴿ يٰأَيُّهَا النّاسُ قَد جاءَتكُم مَوعِظَةٌ مِن رَبِّكُم وَشِفاءٌ لِما فِى الصُّدورِ وَهُدًى وَرَحمَةٌ لِلمُؤمِنينَ ﴾
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے (1) اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لیے شفا ہے (2)اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے.(3)
سورہ یونس کی آیت (58) کی تفسیر
﴿ قُل بِفَضلِ اللَّهِ وَبِرَحمَتِهِ فَبِذٰلِكَ فَليَفرَحوا هُوَ خَيرٌ مِمّا يَجمَعونَ ﴾
آپ کہہ دیجئے کہ بس لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہئے(1) ۔ وه اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وه جمع کر رہے ہیں.
سورہ یونس کی آیت (59) کی تفسیر
﴿ قُل أَرَءَيتُم ما أَنزَلَ اللَّهُ لَكُم مِن رِزقٍ فَجَعَلتُم مِنهُ حَرامًا وَحَلٰلًا قُل ءاللَّهُ أَذِنَ لَكُم ۖ أَم عَلَى اللَّهِ تَفتَرونَ ﴾
آپ کہیے کہ یہ تو بتاؤ کہ اللہ نے تمہارے لیے جو کچھ رزق بھیجا تھا پھر تم نے اس کا کچھ حصہ حرام اور کچھ حلال قرار دے لیا(1) ۔ آپ پوچھیے کہ کیا تم کو اللہ نے حکم دیا تھا یا اللہ پر افترا ہی کرتے ہو؟
سورہ یونس کی آیت (60) کی تفسیر
﴿ وَما ظَنُّ الَّذينَ يَفتَرونَ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ يَومَ القِيٰمَةِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَذو فَضلٍ عَلَى النّاسِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَشكُرونَ ﴾
اور جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا باندھتے ہیں ان کا قیامت کی نسبت کیا گمان ہے(1) ؟ واقعی لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہے (2)لیکن اکثر آدمی شکر نہیں کرتے.(3)
سورہ یونس کی آیت (61) کی تفسیر
﴿ وَما تَكونُ فى شَأنٍ وَما تَتلوا مِنهُ مِن قُرءانٍ وَلا تَعمَلونَ مِن عَمَلٍ إِلّا كُنّا عَلَيكُم شُهودًا إِذ تُفيضونَ فيهِ ۚ وَما يَعزُبُ عَن رَبِّكَ مِن مِثقالِ ذَرَّةٍ فِى الأَرضِ وَلا فِى السَّماءِ وَلا أَصغَرَ مِن ذٰلِكَ وَلا أَكبَرَ إِلّا فى كِتٰبٍ مُبينٍ ﴾
اور آپ کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے آپ کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور جو کام بھی کرتے ہوں ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو۔ اور آپ کے رب سے کوئی چیز ذره برابر بھی غائب نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اورنہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ کوئی چیز بڑی مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے.(1)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔