صفحہ کے لیے تفسیر پڑھیں اور ساتھ ساتھ سنیں (419) از سورہ الاحزاب

آیات 7 سے 15 تک

52 مشاہدات

صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔

سورہ الاحزاب کی آیت (7) کی تفسیر

﴿ وَإِذ أَخَذنا مِنَ النَّبِيّۦنَ ميثٰقَهُم وَمِنكَ وَمِن نوحٍ وَإِبرٰهيمَ وَموسىٰ وَعيسَى ابنِ مَريَمَ ۖ وَأَخَذنا مِنهُم ميثٰقًا غَليظًا ﴾

جب کہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور (بالخصوص) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے، اور ہم نے ان سے (پکا اور) پختہ عہد لیا.(1)

سورہ الاحزاب کی آیت (8) کی تفسیر

﴿ لِيَسـَٔلَ الصّٰدِقينَ عَن صِدقِهِم ۚ وَأَعَدَّ لِلكٰفِرينَ عَذابًا أَليمًا ﴾

تاکہ اللہ تعالیٰ سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں دریافت فرمائے(1) ، اور کافروں کے لئے ہم نے المناک عذاب تیار کر رکھے ہیں.

سورہ الاحزاب کی آیت (9) کی تفسیر

﴿ يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اذكُروا نِعمَةَ اللَّهِ عَلَيكُم إِذ جاءَتكُم جُنودٌ فَأَرسَلنا عَلَيهِم ريحًا وَجُنودًا لَم تَرَوها ۚ وَكانَ اللَّهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرًا ﴾

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو احسان تم پر کیا اسے یاد کرو جبکہ تمہارے مقابلے کو فوجوں پر فوجیں آئیں پھر ہم نے ان پر تیز وتند آندھی اور ایسے لشکر بھیجے جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں(1) ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے.

سورہ الاحزاب کی آیت (10) کی تفسیر

﴿ إِذ جاءوكُم مِن فَوقِكُم وَمِن أَسفَلَ مِنكُم وَإِذ زاغَتِ الأَبصٰرُ وَبَلَغَتِ القُلوبُ الحَناجِرَ وَتَظُنّونَ بِاللَّهِ الظُّنونا۠ ﴾

جب کہ (دشمن) تمہارے پاس اوپر سے اور نیچے سے چڑھ آئے(1) اور جب کہ آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منھ کو آگئے اور تم اللہ تعالیٰ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے.(2)

سورہ الاحزاب کی آیت (11) کی تفسیر

﴿ هُنالِكَ ابتُلِىَ المُؤمِنونَ وَزُلزِلوا زِلزالًا شَديدًا ﴾

یہیں مومن آزمائے گئے اور پوری طرح وه جھنجھوڑ دیئے گئے.(1)

سورہ الاحزاب کی آیت (12) کی تفسیر

﴿ وَإِذ يَقولُ المُنٰفِقونَ وَالَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسولُهُ إِلّا غُرورًا ﴾

اور اس وقت منافق اور وه لوگ جن کے دلوں میں (شک کا) روگ تھا کہنے لگے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکا فریب کا ہی وعده کیا تھا.(1)

سورہ الاحزاب کی آیت (13) کی تفسیر

﴿ وَإِذ قالَت طائِفَةٌ مِنهُم يٰأَهلَ يَثرِبَ لا مُقامَ لَكُم فَارجِعوا ۚ وَيَستَـٔذِنُ فَريقٌ مِنهُمُ النَّبِىَّ يَقولونَ إِنَّ بُيوتَنا عَورَةٌ وَما هِىَ بِعَورَةٍ ۖ إِن يُريدونَ إِلّا فِرارًا ﴾

ان ہی کی ایک جماعت نے ہانک لگائی کہ اے مدینہ والو(1) ! تمہارے لئے ٹھکانہ نہیں چلو لوٹ چلو(2)، اور ان کی ایک اور جماعت یہ کہہ کر نبی ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں(3)، حاﻻنکہ وه (کھلے ہوئے اور) غیر محفوظ نہ تھے (لیکن) ان کا پختہ اراده بھاگ کھڑے ہونے کا تھا.(4)

سورہ الاحزاب کی آیت (14) کی تفسیر

﴿ وَلَو دُخِلَت عَلَيهِم مِن أَقطارِها ثُمَّ سُئِلُوا الفِتنَةَ لَءاتَوها وَما تَلَبَّثوا بِها إِلّا يَسيرًا ﴾

اور اگر مدینے کے اطراف سے ان پر (لشکر) داخل کیے جاتے پھر ان سے فتنہ طلب کیا جاتا تو یہ ضرور اسے برپا کر دیتے اور نہ لڑتے مگر تھوڑی مدت.(1)

سورہ الاحزاب کی آیت (15) کی تفسیر

﴿ وَلَقَد كانوا عٰهَدُوا اللَّهَ مِن قَبلُ لا يُوَلّونَ الأَدبٰرَ ۚ وَكانَ عَهدُ اللَّهِ مَسـٔولًا ﴾

اس سے پہلے تو انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ پیٹھ نہ پھیریں گے(1) ، اور اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے وعده کی باز پرس ضرور(2) ہوگی.

اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
صفحہ : 418 آیات : 1 سے 6 صفحہ : 419 آیات : 7 سے 15 صفحہ : 420 آیات : 16 سے 22 صفحہ : 421 آیات : 23 سے 30 صفحہ : 422 آیات : 31 سے 35 صفحہ : 423 آیات : 36 سے 43 صفحہ : 424 آیات : 44 سے 50 صفحہ : 425 آیات : 51 سے 54 صفحہ : 426 آیات : 55 سے 62 صفحہ : 427 آیات : 63 سے 73