صفحہ کے لیے تفسیر پڑھیں اور ساتھ ساتھ سنیں (420) از سورہ الاحزاب

آیات 16 سے 22 تک

50 مشاہدات

صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔

سورہ الاحزاب کی آیت (16) کی تفسیر

﴿ قُل لَن يَنفَعَكُمُ الفِرارُ إِن فَرَرتُم مِنَ المَوتِ أَوِ القَتلِ وَإِذًا لا تُمَتَّعونَ إِلّا قَليلًا ﴾

کہہ دیجئے کہ گو تم موت سے یا خوف قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہیں کچھ بھی کام نہ آئے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائده اٹھاؤ گے.(1)

سورہ الاحزاب کی آیت (17) کی تفسیر

﴿ قُل مَن ذَا الَّذى يَعصِمُكُم مِنَ اللَّهِ إِن أَرادَ بِكُم سوءًا أَو أَرادَ بِكُم رَحمَةً ۚ وَلا يَجِدونَ لَهُم مِن دونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلا نَصيرًا ﴾

پوچھیئے! تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی برائی پہنچانا چاہے یا تم پر کوئی فضل کرنا چاہے تو کون ہے جو تمہیں بچا سکے (یا تم سے روک سکے؟)(1) ، اپنے لیے بجز اللہ تعالیٰ کے نہ کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار.

سورہ الاحزاب کی آیت (18) کی تفسیر

﴿ ۞ قَد يَعلَمُ اللَّهُ المُعَوِّقينَ مِنكُم وَالقائِلينَ لِإِخوٰنِهِم هَلُمَّ إِلَينا ۖ وَلا يَأتونَ البَأسَ إِلّا قَليلًا ﴾

اللہ تعالیٰ تم میں سے انہیں (بخوبی) جانتا ہے جو دوسروں کو روکتے ہیں اور اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس(1) چلے آؤ۔ اور کبھی کبھی ہی لڑائی میں آجاتے ہیں.(2)

سورہ الاحزاب کی آیت (19) کی تفسیر

﴿ أَشِحَّةً عَلَيكُم ۖ فَإِذا جاءَ الخَوفُ رَأَيتَهُم يَنظُرونَ إِلَيكَ تَدورُ أَعيُنُهُم كَالَّذى يُغشىٰ عَلَيهِ مِنَ المَوتِ ۖ فَإِذا ذَهَبَ الخَوفُ سَلَقوكُم بِأَلسِنَةٍ حِدادٍ أَشِحَّةً عَلَى الخَيرِ ۚ أُولٰئِكَ لَم يُؤمِنوا فَأَحبَطَ اللَّهُ أَعمٰلَهُم ۚ وَكانَ ذٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسيرًا ﴾

تمہاری مدد میں (پورے) بخیل ہیں(1) ، پھر جب خوف ودہشت کا موقعہ آجائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ آپ کی طرف نظریں جما دیتے ہیں اور ان کی انکھیں اس طرح گھومتی ہیں جیسے اس شخص کی جس پر موت کی غشی طاری ہو(2)۔ پھر جب خوف جاتا رہتا ہے تو تم پر اپنی تیز زبانوں سے بڑی باتیں بناتے ہیں(3) مال کے بڑے ہی حریص ہیں(4)، یہ ایمان ﻻئے ہی نہیں ہیں(5) اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال نابود کر دیئے ہیں(6)، اور اللہ تعالیٰ پر یہ بہت ہی آسان ہے.(7)

سورہ الاحزاب کی آیت (20) کی تفسیر

﴿ يَحسَبونَ الأَحزابَ لَم يَذهَبوا ۖ وَإِن يَأتِ الأَحزابُ يَوَدّوا لَو أَنَّهُم بادونَ فِى الأَعرابِ يَسـَٔلونَ عَن أَنبائِكُم ۖ وَلَو كانوا فيكُم ما قٰتَلوا إِلّا قَليلًا ﴾

سمجھتے ہیں کہ اب تک لشکر چلے نہیں گئے(1) ، اور اگر فوجیں آجائیں تو تمنائیں کرتے ہیں کہ کاش! وه صحرا میں بادیہ نشینوں کے ساتھ ہوتے کہ تمہاری خبریں دریافت کیا کرتے(2)، اگر وه تم میں موجود ہوتے (تو بھی کیا؟) نہ لڑتے مگر برائے نام.(3)

سورہ الاحزاب کی آیت (21) کی تفسیر

﴿ لَقَد كانَ لَكُم فى رَسولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كانَ يَرجُوا اللَّهَ وَاليَومَ الءاخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثيرًا ﴾

یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے(1) ، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے.(2)

سورہ الاحزاب کی آیت (22) کی تفسیر

﴿ وَلَمّا رَءَا المُؤمِنونَ الأَحزابَ قالوا هٰذا ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسولُهُ ۚ وَما زادَهُم إِلّا إيمٰنًا وَتَسليمًا ﴾

اور ایمان والوں نے جب (کفار کے) لشکروں کو دیکھا (بے ساختہ) کہہ اٹھے! کہ انہیں کا وعده ہمیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے دیا تھا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا(1) ، اور اس (چیز) نے ان کے ایمان میں اور شیوہٴ فرماں برداری میں اور اضافہ کر دیا.(2)

اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
صفحہ : 418 آیات : 1 سے 6 صفحہ : 419 آیات : 7 سے 15 صفحہ : 420 آیات : 16 سے 22 صفحہ : 421 آیات : 23 سے 30 صفحہ : 422 آیات : 31 سے 35 صفحہ : 423 آیات : 36 سے 43 صفحہ : 424 آیات : 44 سے 50 صفحہ : 425 آیات : 51 سے 54 صفحہ : 426 آیات : 55 سے 62 صفحہ : 427 آیات : 63 سے 73