صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ المائدہ کی آیت (58) کی تفسیر
﴿ وَإِذا نادَيتُم إِلَى الصَّلوٰةِ اتَّخَذوها هُزُوًا وَلَعِبًا ۚ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم قَومٌ لا يَعقِلونَ ﴾
اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی کھیل ٹھرا لیتے ہیں(1) ۔ یہ اس واسطے کہ بےعقل ہیں۔
سورہ المائدہ کی آیت (59) کی تفسیر
﴿ قُل يٰأَهلَ الكِتٰبِ هَل تَنقِمونَ مِنّا إِلّا أَن ءامَنّا بِاللَّهِ وَما أُنزِلَ إِلَينا وَما أُنزِلَ مِن قَبلُ وَأَنَّ أَكثَرَكُم فٰسِقونَ ﴾
آپ کہہ دیجیئے اے یہودیوں اور نصرانیو! تم ہم سے صرف اس وجہ سے دشمنیاں کر رہے ہو کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ ہماری جانب نازل کیا گیا ہے اور جو کچھ اس سے پہلے اتارا گیا ہے اس پر ایمان ﻻئے ہیں اور اس لئے بھی کہ تم میں اکثر فاسق ہیں۔
سورہ المائدہ کی آیت (60) کی تفسیر
﴿ قُل هَل أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِن ذٰلِكَ مَثوبَةً عِندَ اللَّهِ ۚ مَن لَعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيهِ وَجَعَلَ مِنهُمُ القِرَدَةَ وَالخَنازيرَ وَعَبَدَ الطّٰغوتَ ۚ أُولٰئِكَ شَرٌّ مَكانًا وَأَضَلُّ عَن سَواءِ السَّبيلِ ﴾
کہہ دیجیئے کہ کیا میں تمہیں بتاؤں؟ کہ اس سے بھی زیاده برے اجر پانے واﻻ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون ہے؟ وه جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور اس پر وه غصہ ہوا اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے معبودان باطل کی پرستش کی، یہی لوگ بدتر درجے والے ہیں اور یہی راه راست سے بہت زیاده بھٹکنے والے ہیں۔(1)
سورہ المائدہ کی آیت (61) کی تفسیر
﴿ وَإِذا جاءوكُم قالوا ءامَنّا وَقَد دَخَلوا بِالكُفرِ وَهُم قَد خَرَجوا بِهِ ۚ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِما كانوا يَكتُمونَ ﴾
اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے حاﻻنکہ وه کفر لئے ہوئے ہی آئے تھے اور اسی کفر کے ساتھ ہی گئے بھی اور یہ جو کچھ چھپا رہے ہیں اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔(1)
سورہ المائدہ کی آیت (62) کی تفسیر
﴿ وَتَرىٰ كَثيرًا مِنهُم يُسٰرِعونَ فِى الإِثمِ وَالعُدوٰنِ وَأَكلِهِمُ السُّحتَ ۚ لَبِئسَ ما كانوا يَعمَلونَ ﴾
آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر گناه کے کاموں کی طرف اور ﻇلم وزیادتی کی طرف اور مال حرام کھانے کی طرف لپک رہے ہیں، جو کچھ یہ کر رہے ہیں وه نہایت برے کام ہیں۔
سورہ المائدہ کی آیت (63) کی تفسیر
﴿ لَولا يَنهىٰهُمُ الرَّبّٰنِيّونَ وَالأَحبارُ عَن قَولِهِمُ الإِثمَ وَأَكلِهِمُ السُّحتَ ۚ لَبِئسَ ما كانوا يَصنَعونَ ﴾
انہیں ان کے عابد وعالم جھوٹ باتوں کے کہنے اور حرام چیزوں کے کھانے سے کیوں نہیں روکتے، بےشک برا کام ہے جو یہ کر رہے ہیں۔(1)
سورہ المائدہ کی آیت (64) کی تفسیر
﴿ وَقالَتِ اليَهودُ يَدُ اللَّهِ مَغلولَةٌ ۚ غُلَّت أَيديهِم وَلُعِنوا بِما قالوا ۘ بَل يَداهُ مَبسوطَتانِ يُنفِقُ كَيفَ يَشاءُ ۚ وَلَيَزيدَنَّ كَثيرًا مِنهُم ما أُنزِلَ إِلَيكَ مِن رَبِّكَ طُغيٰنًا وَكُفرًا ۚ وَأَلقَينا بَينَهُمُ العَدٰوَةَ وَالبَغضاءَ إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ ۚ كُلَّما أَوقَدوا نارًا لِلحَربِ أَطفَأَهَا اللَّهُ ۚ وَيَسعَونَ فِى الأَرضِ فَسادًا ۚ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ المُفسِدينَ ﴾
اور یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں(1) ۔ انہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ان کے اس قول کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی، بلکہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتارا جاتا ہے وه ان میں سے اکثر کو تو سرکشی اور کفر میں اور بڑھا دیتا ہے اور ہم نے ان میں آپس میں ہی قیامت تک کے لئے عداوت اور بغض ڈال دیا ہے، وه جب کبھی لڑائی کی آگ کو بھڑکانا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے(2)، یہ ملک بھر میں شر وفساد مچاتے پھرتے ہیں(3) اور اللہ تعالیٰ فسادیوں سے محبت نہیں کرتا۔
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔