صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ المائدہ کی آیت (109) کی تفسیر
﴿ ۞ يَومَ يَجمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقولُ ماذا أُجِبتُم ۖ قالوا لا عِلمَ لَنا ۖ إِنَّكَ أَنتَ عَلّٰمُ الغُيوبِ ﴾
جس روز اللہ تعالیٰ تمام پیغمبروں کو جمع کرے گا، پھر ارشاد فرمائے گا کہ تم کو کیا جواب ملا تھا، وه عرض کریں گے کہ ہم کو کچھ خبر نہیں(1) تو ہی بےشک پوشیده باتوں کو پورا جاننے واﻻ ہے۔
سورہ المائدہ کی آیت (110) کی تفسیر
﴿ إِذ قالَ اللَّهُ يٰعيسَى ابنَ مَريَمَ اذكُر نِعمَتى عَلَيكَ وَعَلىٰ وٰلِدَتِكَ إِذ أَيَّدتُكَ بِروحِ القُدُسِ تُكَلِّمُ النّاسَ فِى المَهدِ وَكَهلًا ۖ وَإِذ عَلَّمتُكَ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَالتَّورىٰةَ وَالإِنجيلَ ۖ وَإِذ تَخلُقُ مِنَ الطّينِ كَهَيـَٔةِ الطَّيرِ بِإِذنى فَتَنفُخُ فيها فَتَكونُ طَيرًا بِإِذنى ۖ وَتُبرِئُ الأَكمَهَ وَالأَبرَصَ بِإِذنى ۖ وَإِذ تُخرِجُ المَوتىٰ بِإِذنى ۖ وَإِذ كَفَفتُ بَنى إِسرٰءيلَ عَنكَ إِذ جِئتَهُم بِالبَيِّنٰتِ فَقالَ الَّذينَ كَفَروا مِنهُم إِن هٰذا إِلّا سِحرٌ مُبينٌ ﴾
جب کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! میرا انعام یاد کرو جو تم پر اور تمہاری والده پر ہوا ہے، جب میں نے تم کو روح القدس(1) سے تائید دی۔ تم لوگوں سے کلام کرتے تھے گود میں بھی(2) اور بڑی عمر میں بھی اور جب کہ میں نے تم کو کتاب اور حکمت کی باتیں اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی(3) اور جب کہ تم میرے حکم سے گارے سے ایک شکل بناتے تھے جیسے پرنده کی شکل ہوتی ہے پھر تم اس کے اندر پھونک مار دیتے تھے جس سے وه پرند بن جاتا تھا میرے حکم سے اور تم اچھا کر دیتے تھے مادرزاد اندھے کو اور کوڑھی کو میرے حکم سے اور جب کہ تم مردوں کو نکال کر کھڑا کرلیتے تھے میرے حکم سے(4) اور جب کہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے(5) پھر ان میں جو کافر تھے انہوں نے کہا تھا کہ بجز کھلے جادو کے یہ اور کچھ بھی نہیں۔(6)
سورہ المائدہ کی آیت (111) کی تفسیر
﴿ وَإِذ أَوحَيتُ إِلَى الحَوارِيّۦنَ أَن ءامِنوا بى وَبِرَسولى قالوا ءامَنّا وَاشهَد بِأَنَّنا مُسلِمونَ ﴾
اور جب کہ میں نے حواریین کو حکم دیا(1) کہ تم مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان ﻻؤ، انہوں نے کہا کہ ہم ایمان ﻻئے اور آپ شاہد رہیئے کہ ہم پورے فرماں بردار ہیں۔
سورہ المائدہ کی آیت (112) کی تفسیر
﴿ إِذ قالَ الحَوارِيّونَ يٰعيسَى ابنَ مَريَمَ هَل يَستَطيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَينا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ ۖ قالَ اتَّقُوا اللَّهَ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ﴾
وه وقت یاد کے قابل ہے جب کہ حواریوں نے عرض کیا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان ﴿دسترخوان﴾ نازل فرما دے؟(1) آپ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔(2)
سورہ المائدہ کی آیت (113) کی تفسیر
﴿ قالوا نُريدُ أَن نَأكُلَ مِنها وَتَطمَئِنَّ قُلوبُنا وَنَعلَمَ أَن قَد صَدَقتَنا وَنَكونَ عَلَيها مِنَ الشّٰهِدينَ ﴾
وه بولے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دلوں کو پورا اطمینان ہوجائے اور ہمارا یہ یقین اور بڑھ جائے کہ آپ نے ہم سے سچ بوﻻ ہے اور ہم گواہی دینے والوں میں سے ہوجائیں۔
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔