صفحہ کے لیے تفسیر پڑھیں اور ساتھ ساتھ سنیں (205) از سورہ التوبہ

آیات 112 سے 117 تک

95 مشاہدات

صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔

سورہ التوبہ کی آیت (112) کی تفسیر

﴿ التّٰئِبونَ العٰبِدونَ الحٰمِدونَ السّٰئِحونَ الرّٰكِعونَ السّٰجِدونَ الءامِرونَ بِالمَعروفِ وَالنّاهونَ عَنِ المُنكَرِ وَالحٰفِظونَ لِحُدودِ اللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ المُؤمِنينَ ﴾

وه ایسے ہیں جو توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزه رکھنے والے، (یا راه حق میں سفر کرنے والے) رکوع اور سجده کرنے والے، نیک باتوں کی تعلیم کرنے والے اور بری باتوں سے باز رکھنے والے اور اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے ہیں(1) اور ایسے مومنین کو آپ خوشخبری سنا دیجئے؟(2)

سورہ التوبہ کی آیت (113) کی تفسیر

﴿ ما كانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذينَ ءامَنوا أَن يَستَغفِروا لِلمُشرِكينَ وَلَو كانوا أُولى قُربىٰ مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُم أَنَّهُم أَصحٰبُ الجَحيمِ ﴾

پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وه رشتہدار ہی ہوں اس امر کے ﻇاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔(1)

سورہ التوبہ کی آیت (114) کی تفسیر

﴿ وَما كانَ استِغفارُ إِبرٰهيمَ لِأَبيهِ إِلّا عَن مَوعِدَةٍ وَعَدَها إِيّاهُ فَلَمّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنهُ ۚ إِنَّ إِبرٰهيمَ لَأَوّٰهٌ حَليمٌ ﴾

اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت مانگنا وه صرف وعده کے سبب سے تھا جو انہوں نے اس سے وعده کرلیا تھا۔ پھر جب ان پر یہ بات ﻇاہر ہوگئی کہ وه اللہ کا دشمن ہے تو وه اس سے محض بے تعلق ہوگئے(1) ، واقعی ابراہیم (علیہ السلام) بڑے نرم دل اور برد بار تھے۔(2)

سورہ التوبہ کی آیت (115) کی تفسیر

﴿ وَما كانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَومًا بَعدَ إِذ هَدىٰهُم حَتّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم ما يَتَّقونَ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ ﴾

اور اللہ ایسا نہیں کرتا کہ کسی قوم کو ہدایت کر کے بعد میں گمراه کر دے جب تک کہ ان چیزوں کو صاف صاف نہ بتلادے جن سے وه بچیں(1) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

سورہ التوبہ کی آیت (116) کی تفسیر

﴿ إِنَّ اللَّهَ لَهُ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ يُحيۦ وَيُميتُ ۚ وَما لَكُم مِن دونِ اللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلا نَصيرٍ ﴾

بلاشبہ اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں۔ وہی جلاتا اور مارتا ہے، اور تمہارا اللہ کے سوا نہ کوئی یار ہے اور نہ کوئی مدد گار ہے۔

سورہ التوبہ کی آیت (117) کی تفسیر

﴿ لَقَد تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِىِّ وَالمُهٰجِرينَ وَالأَنصارِ الَّذينَ اتَّبَعوهُ فى ساعَةِ العُسرَةِ مِن بَعدِ ما كادَ يَزيغُ قُلوبُ فَريقٍ مِنهُم ثُمَّ تابَ عَلَيهِم ۚ إِنَّهُ بِهِم رَءوفٌ رَحيمٌ ﴾

اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر توجہ فرمائی اور مہاجرین اور انصار کے حال پر بھی جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت پیغمبر کا ساتھ دیا(1) ، اس کے بعد کہ ان میں سے ایک گروه کے دلوں میں کچھ تزلزل ہو چلا تھا(2)۔ پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان سب پر بہت ہی شفیق مہربان ہے۔

اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
صفحہ : 187 آیات : 1 سے 6 صفحہ : 188 آیات : 7 سے 13 صفحہ : 189 آیات : 14 سے 20 صفحہ : 190 آیات : 21 سے 26 صفحہ : 191 آیات : 27 سے 31 صفحہ : 192 آیات : 32 سے 36 صفحہ : 193 آیات : 37 سے 40 صفحہ : 194 آیات : 41 سے 47 صفحہ : 195 آیات : 48 سے 54 صفحہ : 196 آیات : 55 سے 61 صفحہ : 197 آیات : 62 سے 68 صفحہ : 198 آیات : 69 سے 72 صفحہ : 199 آیات : 73 سے 79 صفحہ : 200 آیات : 80 سے 86 صفحہ : 201 آیات : 87 سے 93 صفحہ : 202 آیات : 94 سے 99 صفحہ : 203 آیات : 100 سے 106 صفحہ : 204 آیات : 107 سے 111 صفحہ : 205 آیات : 112 سے 117 صفحہ : 206 آیات : 118 سے 122 صفحہ : 207 آیات : 123 سے 129