صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ یوسف کی آیت (31) کی تفسیر
﴿ فَلَمّا سَمِعَت بِمَكرِهِنَّ أَرسَلَت إِلَيهِنَّ وَأَعتَدَت لَهُنَّ مُتَّكَـًٔا وَءاتَت كُلَّ وٰحِدَةٍ مِنهُنَّ سِكّينًا وَقالَتِ اخرُج عَلَيهِنَّ ۖ فَلَمّا رَأَينَهُ أَكبَرنَهُ وَقَطَّعنَ أَيدِيَهُنَّ وَقُلنَ حٰشَ لِلَّهِ ما هٰذا بَشَرًا إِن هٰذا إِلّا مَلَكٌ كَريمٌ ﴾
اس نے جب ان کی اس پر فریب غیبت کا حال سنا تو انہیں بلوا بھیجا(1) اور ان کے لئے ایک مجلس مرتب کی(2) اور ان میں سے ہر ایک کو چھری دی۔ اور کہا اے یوسف! ان کے سامنے چلے آؤ(3)، ان عورتوں نے جب اسے دیکھا تو بہت بڑا جانا اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے(4)، اور زبان سے نکل گیا کہ حاشاللہ! یہ انسان تو ہرگز نہیں، یہ تو یقیناً کوئی بہت ہی بزرگ فرشتہ ہے.(5)
سورہ یوسف کی آیت (32) کی تفسیر
﴿ قالَت فَذٰلِكُنَّ الَّذى لُمتُنَّنى فيهِ ۖ وَلَقَد رٰوَدتُهُ عَن نَفسِهِ فَاستَعصَمَ ۖ وَلَئِن لَم يَفعَل ما ءامُرُهُ لَيُسجَنَنَّ وَلَيَكونًا مِنَ الصّٰغِرينَ ﴾
اس وقت عزیز مصر کی بیوی نے کہا، یہی ہے جن کے بارے میں تم مجھے طعنے دے رہی تھیں(1) ، میں نے ہر چند اس سے اپنا مطلب حاصل کرنا چاہا لیکن یہ بال بال بچا رہا، اور جو کچھ میں اس سے کہہ رہی ہوں اگر یہ نہ کرے گا تو یقیناً یہ قید کر دیا جائے گا اور بیشک یہ بہت ہی بے عزت ہوگا.(2)
سورہ یوسف کی آیت (33) کی تفسیر
﴿ قالَ رَبِّ السِّجنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمّا يَدعونَنى إِلَيهِ ۖ وَإِلّا تَصرِف عَنّى كَيدَهُنَّ أَصبُ إِلَيهِنَّ وَأَكُن مِنَ الجٰهِلينَ ﴾
یوسف نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! جس بات کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں اس سے تو مجھے جیل خانہ بہت پسند ہے، اگر تو نے ان کا فن فریب مجھ سے دور نہ کیا تو میں تو ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور بالکل نادانوں میں جا ملوں گا.(1)
سورہ یوسف کی آیت (34) کی تفسیر
﴿ فَاستَجابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنهُ كَيدَهُنَّ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّميعُ العَليمُ ﴾
اس کے رب نے اس کی دعا قبول کر لی اور ان عورتوں کے داؤ پیچ اس سے پھیر دیے، یقیناً وه سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے.
سورہ یوسف کی آیت (35) کی تفسیر
﴿ ثُمَّ بَدا لَهُم مِن بَعدِ ما رَأَوُا الءايٰتِ لَيَسجُنُنَّهُ حَتّىٰ حينٍ ﴾
پھر ان تمام نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد بھی انہیں یہی مصلحت معلوم ہوئی کہ یوسف کو کچھ مدت کے لئے قید خانہ میں رکھیں.(1)
سورہ یوسف کی آیت (36) کی تفسیر
﴿ وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجنَ فَتَيانِ ۖ قالَ أَحَدُهُما إِنّى أَرىٰنى أَعصِرُ خَمرًا ۖ وَقالَ الءاخَرُ إِنّى أَرىٰنى أَحمِلُ فَوقَ رَأسى خُبزًا تَأكُلُ الطَّيرُ مِنهُ ۖ نَبِّئنا بِتَأويلِهِ ۖ إِنّا نَرىٰكَ مِنَ المُحسِنينَ ﴾
اس کے ساتھ ہی دو اور جوان بھی جیل خانے میں داخل ہوئے، ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو شراب نچوڑتے دیکھا ہے، اور دوسرے نے کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں جسے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں آپ اس کی تعبیر بتایئے، ہمیں تو آپ خوبیوں والے شخص دکھائی دیتے ہیں.(1)
سورہ یوسف کی آیت (37) کی تفسیر
﴿ قالَ لا يَأتيكُما طَعامٌ تُرزَقانِهِ إِلّا نَبَّأتُكُما بِتَأويلِهِ قَبلَ أَن يَأتِيَكُما ۚ ذٰلِكُما مِمّا عَلَّمَنى رَبّى ۚ إِنّى تَرَكتُ مِلَّةَ قَومٍ لا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَهُم بِالءاخِرَةِ هُم كٰفِرونَ ﴾
یوسف ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا تمہیں جو کھانا دیا جاتا ہے اس کے تمہارے پاس پہنچنے سے پہلے ہی میں تمہیں اس کی تعبیر بتلا دوں گا۔ یہ سب اس علم کی بدولت ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے(1) ، میں نے ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں.(2)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔