صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ یوسف کی آیت (44) کی تفسیر
﴿ قالوا أَضغٰثُ أَحلٰمٍ ۖ وَما نَحنُ بِتَأويلِ الأَحلٰمِ بِعٰلِمينَ ﴾
انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو اڑتے اڑاتے پریشان خواب ہیں اور ایسے شوریده پریشان خوابوں کی تعبیر جاننے والے ہم نہیں.(1)
سورہ یوسف کی آیت (45) کی تفسیر
﴿ وَقالَ الَّذى نَجا مِنهُما وَادَّكَرَ بَعدَ أُمَّةٍ أَنا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأويلِهِ فَأَرسِلونِ ﴾
ان دو قیدیوں میں سے جو رہا ہوا تھا اسے مدت کے بعد یاد آگیا اور کہنے لگامیں تمہیں اس کی تعبیر بتلا دوں گا مجھے جانے کی اجازت دیجئے.(1)
سورہ یوسف کی آیت (46) کی تفسیر
﴿ يوسُفُ أَيُّهَا الصِّدّيقُ أَفتِنا فى سَبعِ بَقَرٰتٍ سِمانٍ يَأكُلُهُنَّ سَبعٌ عِجافٌ وَسَبعِ سُنبُلٰتٍ خُضرٍ وَأُخَرَ يابِسٰتٍ لَعَلّى أَرجِعُ إِلَى النّاسِ لَعَلَّهُم يَعلَمونَ ﴾
اے یوسف! اے بہت بڑے سچے یوسف! آپ ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلایئے کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالکل سبز خوشے ہیں اور سات ہی دوسرے بالکل خشک ہیں، تاکہ میں واپس جاکر ان لوگوں سے کہوں کہ وه سب جان لیں.
سورہ یوسف کی آیت (47) کی تفسیر
﴿ قالَ تَزرَعونَ سَبعَ سِنينَ دَأَبًا فَما حَصَدتُم فَذَروهُ فى سُنبُلِهِ إِلّا قَليلًا مِمّا تَأكُلونَ ﴾
یوسف نے جواب دیا کہ تم سات سال تک پے درپے لگاتار حسب عادت غلہ بویا کرنا، اور فصل کاٹ کر اسے بالیوں سمیت ہی رہنے دینا سوائے اپنے کھانے کی تھوڑی سی مقدار کے.
سورہ یوسف کی آیت (48) کی تفسیر
﴿ ثُمَّ يَأتى مِن بَعدِ ذٰلِكَ سَبعٌ شِدادٌ يَأكُلنَ ما قَدَّمتُم لَهُنَّ إِلّا قَليلًا مِمّا تُحصِنونَ ﴾
اس کے بعد سات سال نہایت سخت قحط آئیں گے وه اس غلے کو کھا جائیں گے، جو تم نے ان کے لئے ذخیره رکھ چھوڑا تھا(1) ، سوائے اس تھوڑے سے کے جو تم روک رکھتے ہو.(2)
سورہ یوسف کی آیت (49) کی تفسیر
﴿ ثُمَّ يَأتى مِن بَعدِ ذٰلِكَ عامٌ فيهِ يُغاثُ النّاسُ وَفيهِ يَعصِرونَ ﴾
اس کے بعد جو سال آئے گا اس میں لوگوں پر خوب بارش برسائی جائے گی اور اس میں (شیرہٴ انگور بھی) خوب نچوڑیں گے.(1)
سورہ یوسف کی آیت (50) کی تفسیر
﴿ وَقالَ المَلِكُ ائتونى بِهِ ۖ فَلَمّا جاءَهُ الرَّسولُ قالَ ارجِع إِلىٰ رَبِّكَ فَسـَٔلهُ ما بالُ النِّسوَةِ الّٰتى قَطَّعنَ أَيدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبّى بِكَيدِهِنَّ عَليمٌ ﴾
اور بادشاه نے کہا یوسف کو میرے پاس لاؤ(1) ، جب قاصد یوسف کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا، اپنے بادشاه کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا حقیقی واقعہ کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے(2)، تھے؟ ان کے حیلے کو (صحیح طور پر) جاننے واﻻ میرا پروردگار ہی ہے.
سورہ یوسف کی آیت (51) کی تفسیر
﴿ قالَ ما خَطبُكُنَّ إِذ رٰوَدتُنَّ يوسُفَ عَن نَفسِهِ ۚ قُلنَ حٰشَ لِلَّهِ ما عَلِمنا عَلَيهِ مِن سوءٍ ۚ قالَتِ امرَأَتُ العَزيزِ الـٰٔنَ حَصحَصَ الحَقُّ أَنا۠ رٰوَدتُهُ عَن نَفسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصّٰدِقينَ ﴾
بادشاه نے پوچھا اے عورتو! اس وقت کا صحیح واقعہ کیا ہے جب تم داؤ فریب کر کے یوسف کو اس کی دلی منشا سے بہکانا چاہتی تھیں، انہوں نے صاف جواب دیا کہ معاذ اللہ ہم نے یوسف میں کوئی برائی نہیں(1) پائی، پھر تو عزیز کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب تو سچی بات نتھر آئی۔ میں نے ہی اسے ورغلایا تھا، اس کے جی سے، اور یقیناً وه سچوں میں سے ہے.(2)
سورہ یوسف کی آیت (52) کی تفسیر
﴿ ذٰلِكَ لِيَعلَمَ أَنّى لَم أَخُنهُ بِالغَيبِ وَأَنَّ اللَّهَ لا يَهدى كَيدَ الخائِنينَ ﴾
(یوسف علیہ السلام نے کہا) یہ اس واسطے کہ (عزیز) جان لے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی(1) اور یہ بھی کہ اللہ دغابازوں کے ہتھکنڈے چلنے نہیں دیتا.(2)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔