صفحہ کے لیے تفسیر پڑھیں اور ساتھ ساتھ سنیں (248) از سورہ یوسف

آیات 104 سے 111 تک

52 مشاہدات

صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔

سورہ یوسف کی آیت (104) کی تفسیر

﴿ وَما تَسـَٔلُهُم عَلَيهِ مِن أَجرٍ ۚ إِن هُوَ إِلّا ذِكرٌ لِلعٰلَمينَ ﴾

آپ ان سے اس پر کوئی اجرت طلب نہیں کر رہے ہیں(1) ۔ یہ تو تمام دنیا کے لئے نری نصیحت ہی نصیحت ہے.(2)

سورہ یوسف کی آیت (105) کی تفسیر

﴿ وَكَأَيِّن مِن ءايَةٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ يَمُرّونَ عَلَيها وَهُم عَنها مُعرِضونَ ﴾

آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ جن سے یہ منھ موڑے گزر جاتے ہیں.(1)

سورہ یوسف کی آیت (106) کی تفسیر

﴿ وَما يُؤمِنُ أَكثَرُهُم بِاللَّهِ إِلّا وَهُم مُشرِكونَ ﴾

ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں.(1)

سورہ یوسف کی آیت (107) کی تفسیر

﴿ أَفَأَمِنوا أَن تَأتِيَهُم غٰشِيَةٌ مِن عَذابِ اللَّهِ أَو تَأتِيَهُمُ السّاعَةُ بَغتَةً وَهُم لا يَشعُرونَ ﴾

کیا وه اس بات سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے عذابوں میں سے کوئی عام عذاب آجائے یا ان پر اچانک قیامت ٹوٹ پڑے اور وه بے خبر ہی ہوں.

سورہ یوسف کی آیت (108) کی تفسیر

﴿ قُل هٰذِهِ سَبيلى أَدعوا إِلَى اللَّهِ ۚ عَلىٰ بَصيرَةٍ أَنا۠ وَمَنِ اتَّبَعَنى ۖ وَسُبحٰنَ اللَّهِ وَما أَنا۠ مِنَ المُشرِكينَ ﴾

آپ کہہ دیجئے میری راه یہی ہے۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ۔(1) اور اللہ پاک ہے(2) اور میں مشرکوں میں نہیں.

سورہ یوسف کی آیت (109) کی تفسیر

﴿ وَما أَرسَلنا مِن قَبلِكَ إِلّا رِجالًا نوحى إِلَيهِم مِن أَهلِ القُرىٰ ۗ أَفَلَم يَسيروا فِى الأَرضِ فَيَنظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۗ وَلَدارُ الءاخِرَةِ خَيرٌ لِلَّذينَ اتَّقَوا ۗ أَفَلا تَعقِلونَ ﴾

آپ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں جتنے رسول بھیجے ہیں سب مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی نازل فرماتے گئے(1) ۔ کیا زمین میں چل پھر کر انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا کچھ انجام ہوا؟ یقیناً آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لئے بہت ہی بہتر ہے، کیا پھر بھی تم نہیں سمجھتے.

سورہ یوسف کی آیت (110) کی تفسیر

﴿ حَتّىٰ إِذَا استَيـَٔسَ الرُّسُلُ وَظَنّوا أَنَّهُم قَد كُذِبوا جاءَهُم نَصرُنا فَنُجِّىَ مَن نَشاءُ ۖ وَلا يُرَدُّ بَأسُنا عَنِ القَومِ المُجرِمينَ ﴾

یہاں تک کہ جب رسول ناامید ہونے لگے(1) اور وه (قوم کے لوگ) خیال کرنے لگے کہ انہیں جھوٹ کہا گیا(2)۔ فوراً ہی ہماری مدد ان کے پاس آپہنچی(3) جسے ہم نے چاہا اسے نجات دی گئی(4)۔ بات یہ ہے کہ ہمارا عذاب گناهگاروں سے واپس نہیں کیا جاتا.

سورہ یوسف کی آیت (111) کی تفسیر

﴿ لَقَد كانَ فى قَصَصِهِم عِبرَةٌ لِأُولِى الأَلبٰبِ ۗ ما كانَ حَديثًا يُفتَرىٰ وَلٰكِن تَصديقَ الَّذى بَينَ يَدَيهِ وَتَفصيلَ كُلِّ شَيءٍ وَهُدًى وَرَحمَةً لِقَومٍ يُؤمِنونَ ﴾

ان کے بیان میں عقل والوں کے لئے یقیناً نصیحت اور عبرت ہے، یہ قرآن جھوٹ بنائی ہوئی بات نہیں بلکہ یہ تصدیق ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے کی ہیں، کھول کھول کر بیان کرنے واﻻ ہے ہر چیز کو اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان دار لوگوں کے لئے.(1)

اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
صفحہ : 235 آیات : 1 سے 4 صفحہ : 236 آیات : 5 سے 14 صفحہ : 237 آیات : 15 سے 22 صفحہ : 238 آیات : 23 سے 30 صفحہ : 239 آیات : 31 سے 37 صفحہ : 240 آیات : 38 سے 43 صفحہ : 241 آیات : 44 سے 52 صفحہ : 242 آیات : 53 سے 63 صفحہ : 243 آیات : 64 سے 69 صفحہ : 244 آیات : 70 سے 78 صفحہ : 245 آیات : 79 سے 86 صفحہ : 246 آیات : 87 سے 95 صفحہ : 247 آیات : 96 سے 103 صفحہ : 248 آیات : 104 سے 111