صفحہ کے لیے تفسیر پڑھیں اور ساتھ ساتھ سنیں (471) از سورہ غافر

آیات 34 سے 40 تک

49 مشاہدات

صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔

سورہ غافر کی آیت (34) کی تفسیر

﴿ وَلَقَد جاءَكُم يوسُفُ مِن قَبلُ بِالبَيِّنٰتِ فَما زِلتُم فى شَكٍّ مِمّا جاءَكُم بِهِ ۖ حَتّىٰ إِذا هَلَكَ قُلتُم لَن يَبعَثَ اللَّهُ مِن بَعدِهِ رَسولًا ۚ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَن هُوَ مُسرِفٌ مُرتابٌ ﴾

اور اس سے پہلے تمہارے پاس (حضرت) یوسف دلیلیں لے کر آئے(1) ، پھر بھی تم ان کی ﻻئی ہوئی (دلیل) میں شک و شبہ ہی کرتے رہے(2) یہاں تک کہ جب ان کی وفات(3) ہو گئی تو کہنے لگے ان کے بعد تو اللہ کسی رسول کو بھیجے گا ہی نہیں(4) اسی طرح اللہ گمراه کرتا ہے ہر اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے واﻻ شک و شبہ کرنے واﻻ ہو.(5)

سورہ غافر کی آیت (35) کی تفسیر

﴿ الَّذينَ يُجٰدِلونَ فى ءايٰتِ اللَّهِ بِغَيرِ سُلطٰنٍ أَتىٰهُم ۖ كَبُرَ مَقتًا عِندَ اللَّهِ وَعِندَ الَّذينَ ءامَنوا ۚ كَذٰلِكَ يَطبَعُ اللَّهُ عَلىٰ كُلِّ قَلبِ مُتَكَبِّرٍ جَبّارٍ ﴾

جو بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں(1) ، اللہ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ تو بہت بڑی ناراضگی کی چیز ہے(2)، اللہ تعالیٰ اسی طرح ہر ایک مغرور سرکش کے دل پر مہر کردیتا ہے.(3)

سورہ غافر کی آیت (36) کی تفسیر

﴿ وَقالَ فِرعَونُ يٰهٰمٰنُ ابنِ لى صَرحًا لَعَلّى أَبلُغُ الأَسبٰبَ ﴾

فرعون نے کہا اے ہامان! میرے لیے ایک باﻻخانہ(1) بنا شاید کہ میں آسمان کے جو دروازے ہیں.

سورہ غافر کی آیت (37) کی تفسیر

﴿ أَسبٰبَ السَّمٰوٰتِ فَأَطَّلِعَ إِلىٰ إِلٰهِ موسىٰ وَإِنّى لَأَظُنُّهُ كٰذِبًا ۚ وَكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرعَونَ سوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبيلِ ۚ وَما كَيدُ فِرعَونَ إِلّا فى تَبابٍ ﴾

(ان) دروازوں تک پہنچ جاؤں اور موسیٰ کے معبود کو جھانک لوں(1) اور بیشک میں سمجھتا ہوں وه جھوٹا ہے(2) اور اسی طرح فرعون کی بدکرداریاں اسے بھلی دکھائی گئیں(3) اور راه سے روک دیا گیا(4) اور فرعون کی (ہر) حیلہ سازی تباہی میں ہی رہی.(5)

سورہ غافر کی آیت (38) کی تفسیر

﴿ وَقالَ الَّذى ءامَنَ يٰقَومِ اتَّبِعونِ أَهدِكُم سَبيلَ الرَّشادِ ﴾

اور اس مومن شخص نے کہا کہ اے میری قوم! (کے لوگو) تم (سب) میری پیروی کرو میں نیک راه کی طرف تمہاری رہبری کروں گا.(1)

سورہ غافر کی آیت (39) کی تفسیر

﴿ يٰقَومِ إِنَّما هٰذِهِ الحَيوٰةُ الدُّنيا مَتٰعٌ وَإِنَّ الءاخِرَةَ هِىَ دارُ القَرارِ ﴾

اے میری قوم! یہ حیات دنیا متاع فانی ہے(1) ، (یقین مانو کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے.(2)

سورہ غافر کی آیت (40) کی تفسیر

﴿ مَن عَمِلَ سَيِّئَةً فَلا يُجزىٰ إِلّا مِثلَها ۖ وَمَن عَمِلَ صٰلِحًا مِن ذَكَرٍ أَو أُنثىٰ وَهُوَ مُؤمِنٌ فَأُولٰئِكَ يَدخُلونَ الجَنَّةَ يُرزَقونَ فيها بِغَيرِ حِسابٍ ﴾

جس نے گناه کیا ہے اسے تو برابر برابر کا بدلہ ہی ہے(1) اور جس نے نیکی کی ہے خواه وه مرد ہو یا عورت اور وه ایمان واﻻ ہو تو یہ لوگ(2) جنت میں جائیں گے اور وہاں بےشمار روزی پائیں گے.(3)

اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
صفحہ : 467 آیات : 1 سے 7 صفحہ : 468 آیات : 8 سے 16 صفحہ : 469 آیات : 17 سے 25 صفحہ : 470 آیات : 26 سے 33 صفحہ : 471 آیات : 34 سے 40 صفحہ : 472 آیات : 41 سے 49 صفحہ : 473 آیات : 50 سے 58 صفحہ : 474 آیات : 59 سے 66 صفحہ : 475 آیات : 67 سے 77 صفحہ : 476 آیات : 78 سے 85