صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ البقرہ کی آیت (120) کی تفسیر
﴿ وَلَن تَرضىٰ عَنكَ اليَهودُ وَلَا النَّصٰرىٰ حَتّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُم ۗ قُل إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الهُدىٰ ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعتَ أَهواءَهُم بَعدَ الَّذى جاءَكَ مِنَ العِلمِ ۙ ما لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلا نَصيرٍ ﴾
آپ سے یہود ونصاریٰ ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں(1) ، آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے(2) اور اگر آپ نے باوجود اپنے پاس علم آجانے کے، پھر ان کی خواہشوں کی پیروی کی تو اللہ کے پاس آپ کا نہ تو کوئی ولی ہوگا اورنہ مددگار۔(3)
سورہ البقرہ کی آیت (121) کی تفسیر
﴿ الَّذينَ ءاتَينٰهُمُ الكِتٰبَ يَتلونَهُ حَقَّ تِلاوَتِهِ أُولٰئِكَ يُؤمِنونَ بِهِ ۗ وَمَن يَكفُر بِهِ فَأُولٰئِكَ هُمُ الخٰسِرونَ ﴾
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے(1) اور وه اسے پڑھنے کے حق کے ساتھ پڑھتے ہیں(2)، وه اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے ساتھ کفر کرے وه نقصان واﻻ ہے۔(3)
سورہ البقرہ کی آیت (122) کی تفسیر
﴿ يٰبَنى إِسرٰءيلَ اذكُروا نِعمَتِىَ الَّتى أَنعَمتُ عَلَيكُم وَأَنّى فَضَّلتُكُم عَلَى العٰلَمينَ ﴾
اے اوﻻد یعقوب! میں نے جو نعمتیں تم پر انعام کی ہیں انہیں یاد کرو اور میں نے تو تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دے رکھی تھی۔
سورہ البقرہ کی آیت (123) کی تفسیر
﴿ وَاتَّقوا يَومًا لا تَجزى نَفسٌ عَن نَفسٍ شَيـًٔا وَلا يُقبَلُ مِنها عَدلٌ وَلا تَنفَعُها شَفٰعَةٌ وَلا هُم يُنصَرونَ ﴾
اس دن سے ڈرو جس دن کوئی نفس کسی نفس کو کچھ فائده نہ پہنچا سکے گا، نہ کسی شخص سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ اسے کوئی شفاعت نفع دے گی، نہ ان کی مدد کی جائے گی۔
سورہ البقرہ کی آیت (124) کی تفسیر
﴿ ۞ وَإِذِ ابتَلىٰ إِبرٰهۦمَ رَبُّهُ بِكَلِمٰتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قالَ إِنّى جاعِلُكَ لِلنّاسِ إِمامًا ۖ قالَ وَمِن ذُرِّيَّتى ۖ قالَ لا يَنالُ عَهدِى الظّٰلِمينَ ﴾
جب ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ کو ان کے رب نے کئی باتوں سے آزمایا(1) اور انہوں نے سب کو پورا کردیا تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنا دوں گا، عرض کرنے لگے: اور میری اوﻻد کو(2)، فرمایا میرا وعده ﻇالموں سے نہیں۔
سورہ البقرہ کی آیت (125) کی تفسیر
﴿ وَإِذ جَعَلنَا البَيتَ مَثابَةً لِلنّاسِ وَأَمنًا وَاتَّخِذوا مِن مَقامِ إِبرٰهۦمَ مُصَلًّى ۖ وَعَهِدنا إِلىٰ إِبرٰهۦمَ وَإِسمٰعيلَ أَن طَهِّرا بَيتِىَ لِلطّائِفينَ وَالعٰكِفينَ وَالرُّكَّعِ السُّجودِ ﴾
ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لئے ﺛواب اور امن وامان کی جگہ بنائی(1) ، تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کرلو(2)، ہم نے ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ سے وعده لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجده کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھو۔
سورہ البقرہ کی آیت (126) کی تفسیر
﴿ وَإِذ قالَ إِبرٰهۦمُ رَبِّ اجعَل هٰذا بَلَدًا ءامِنًا وَارزُق أَهلَهُ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَن ءامَنَ مِنهُم بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۖ قالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَليلًا ثُمَّ أَضطَرُّهُ إِلىٰ عَذابِ النّارِ ۖ وَبِئسَ المَصيرُ ﴾
جب ابراہیم نے کہا، اے پروردگار! تو اس جگہ کو امن واﻻ شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں، پھلوں کی روزیاں دے(1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں کافروں کو بھی تھوڑا فائده دوں گا، پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بےبس کردوں گا، یہ پہنچنے کی جگہ بری ہے۔
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔