صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ البقرہ کی آیت (58) کی تفسیر
﴿ وَإِذ قُلنَا ادخُلوا هٰذِهِ القَريَةَ فَكُلوا مِنها حَيثُ شِئتُم رَغَدًا وَادخُلُوا البابَ سُجَّدًا وَقولوا حِطَّةٌ نَغفِر لَكُم خَطٰيٰكُم ۚ وَسَنَزيدُ المُحسِنينَ ﴾
اور ہم نے تم سے کہا کہ اس بستی میں(1) جاؤ اور جو کچھ جہاں کہیں سے چاہو بافراغت کھاؤ پیو اور دروازے میں سجدے کرتے ہوئے گزرو(2) اور زبان سے حِطّہ(3) کہو ہم تمہاری خطائیں معاف فرمادیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیاده دیں گے۔
سورہ البقرہ کی آیت (59) کی تفسیر
﴿ فَبَدَّلَ الَّذينَ ظَلَموا قَولًا غَيرَ الَّذى قيلَ لَهُم فَأَنزَلنا عَلَى الَّذينَ ظَلَموا رِجزًا مِنَ السَّماءِ بِما كانوا يَفسُقونَ ﴾
پھر ان ﻇالموں نے اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی(1) بدل ڈالی، ہم نے بھی ان ﻇالموں پر ان کے فسق ونافرمانی کی وجہ سے آسمانی عذاب(2) نازل کیا۔
سورہ البقرہ کی آیت (60) کی تفسیر
﴿ ۞ وَإِذِ استَسقىٰ موسىٰ لِقَومِهِ فَقُلنَا اضرِب بِعَصاكَ الحَجَرَ ۖ فَانفَجَرَت مِنهُ اثنَتا عَشرَةَ عَينًا ۖ قَد عَلِمَ كُلُّ أُناسٍ مَشرَبَهُم ۖ كُلوا وَاشرَبوا مِن رِزقِ اللَّهِ وَلا تَعثَوا فِى الأَرضِ مُفسِدينَ ﴾
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی ﻻٹھی پتھر پر مارو، جس سے باره چشمے پھوٹ نکلے اور(1) ہر گروه نے اپنا چشمہ پہچان لیا (اور ہم نے کہہ دیا کہ) اللہ تعالیٰ کا رزق کھاؤ پیو اورزمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔
سورہ البقرہ کی آیت (61) کی تفسیر
﴿ وَإِذ قُلتُم يٰموسىٰ لَن نَصبِرَ عَلىٰ طَعامٍ وٰحِدٍ فَادعُ لَنا رَبَّكَ يُخرِج لَنا مِمّا تُنبِتُ الأَرضُ مِن بَقلِها وَقِثّائِها وَفومِها وَعَدَسِها وَبَصَلِها ۖ قالَ أَتَستَبدِلونَ الَّذى هُوَ أَدنىٰ بِالَّذى هُوَ خَيرٌ ۚ اهبِطوا مِصرًا فَإِنَّ لَكُم ما سَأَلتُم ۗ وَضُرِبَت عَلَيهِمُ الذِّلَّةُ وَالمَسكَنَةُ وَباءو بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ ۗ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كانوا يَكفُرونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَيَقتُلونَ النَّبِيّۦنَ بِغَيرِ الحَقِّ ۗ ذٰلِكَ بِما عَصَوا وَكانوا يَعتَدونَ ﴾
اور جب تم نے کہا اے موسیٰ! ہم سے ایک ہی قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہ ہوسکے گا، اس لئے اپنے رب سے دعا کیجیئے کہ وه ہمیں زمین کی پیداوار ساگ، ککڑی، گیہوں، مسور اور پیاز دے، آپ نے فرمایا، بہتر چیز کے بدلے ادنیٰ چیز کیوں طلب کرتے ہو! اچھا شہر میں جاؤ وہاں تمہاری چاہت کی یہ سب چیزیں ملیں گی(1) ۔ ان پر ذلت اور مسکینی ڈال دی گئی اور اللہ تعالی کا غضب لے کر وه لوٹے(2) یہ اس لئے کہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے(3) تھے، یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا نتیجہ ہے۔(4)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔