صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ البقرہ کی آیت (25) کی تفسیر
﴿ وَبَشِّرِ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ أَنَّ لَهُم جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ ۖ كُلَّما رُزِقوا مِنها مِن ثَمَرَةٍ رِزقًا ۙ قالوا هٰذَا الَّذى رُزِقنا مِن قَبلُ ۖ وَأُتوا بِهِ مُتَشٰبِهًا ۖ وَلَهُم فيها أَزوٰجٌ مُطَهَّرَةٌ ۖ وَهُم فيها خٰلِدونَ ﴾
اور ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو(1) ان جنتوں کی خوشخبریاں دو، جن کےنیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب کبھی وه پھلوں کا رزق دیئے جائیں گے اور ہم شکل ﻻئے جائیں گے تو کہیں گے یہ وہی ہے جو ہم اس سے پہلے دیئے گئے تھے(2) اور ان کے لئے بیویاں ہیں صاف(3) ستھری اور وه ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔(4)
سورہ البقرہ کی آیت (26) کی تفسیر
﴿ ۞ إِنَّ اللَّهَ لا يَستَحيۦ أَن يَضرِبَ مَثَلًا ما بَعوضَةً فَما فَوقَها ۚ فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا فَيَعلَمونَ أَنَّهُ الحَقُّ مِن رَبِّهِم ۖ وَأَمَّا الَّذينَ كَفَروا فَيَقولونَ ماذا أَرادَ اللَّهُ بِهٰذا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثيرًا وَيَهدى بِهِ كَثيرًا ۚ وَما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الفٰسِقينَ ﴾
یقیناً اللہ تعالیٰ کسی مثال کے بیان کرنے سے نہیں شرماتا، خواه مچھر کی ہو، یا اس سے بھی ہلکی چیز کی(1) ۔ ایمان والے تو اسے اپنے رب کی جانب سے صحیح سمجھتے ہیں اور کفار کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ نے کیا مراد لی ہے؟ اس کے ذریعے بیشتر کو گمراه کرتا ہے اور اکثر لوگوں کو راه راست پر ﻻتا ہے(2) اور گمراه تو صرف فاسقوں کو ہی کرتا ہے۔
سورہ البقرہ کی آیت (27) کی تفسیر
﴿ الَّذينَ يَنقُضونَ عَهدَ اللَّهِ مِن بَعدِ ميثٰقِهِ وَيَقطَعونَ ما أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يوصَلَ وَيُفسِدونَ فِى الأَرضِ ۚ أُولٰئِكَ هُمُ الخٰسِرونَ ﴾
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مضبوط عہد کو(1) توڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔(2)
سورہ البقرہ کی آیت (28) کی تفسیر
﴿ كَيفَ تَكفُرونَ بِاللَّهِ وَكُنتُم أَموٰتًا فَأَحيٰكُم ۖ ثُمَّ يُميتُكُم ثُمَّ يُحييكُم ثُمَّ إِلَيهِ تُرجَعونَ ﴾
تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حاﻻنکہ تم مرده تھے اس نے تمہیں زنده کیا، پھر تمہیں مار ڈالے گا، پھر زنده کرے گا(1) ، پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
سورہ البقرہ کی آیت (29) کی تفسیر
﴿ هُوَ الَّذى خَلَقَ لَكُم ما فِى الأَرضِ جَميعًا ثُمَّ استَوىٰ إِلَى السَّماءِ فَسَوّىٰهُنَّ سَبعَ سَمٰوٰتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ ﴾
وه اللہ جس نے تمہارے لئے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا(1) ، پھر آسمان کی طرف قصد کیا(2) اور ان کو ٹھیک ٹھاک سات آسمان(3) بنایا اور وه ہر چیز کو جانتا ہے۔
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔