صفحہ کے لیے تفسیر پڑھیں اور ساتھ ساتھ سنیں (43) از سورہ البقرہ

آیات 257 سے 259 تک

141 مشاہدات

صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔

سورہ البقرہ کی آیت (257) کی تفسیر

﴿ اللَّهُ وَلِىُّ الَّذينَ ءامَنوا يُخرِجُهُم مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَى النّورِ ۖ وَالَّذينَ كَفَروا أَولِياؤُهُمُ الطّٰغوتُ يُخرِجونَهُم مِنَ النّورِ إِلَى الظُّلُمٰتِ ۗ أُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ ﴾

ایمان ﻻنے والوں کا کارساز اللہ تعالیٰ خود ہے، وه انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے اور کافروں کے اولیاء شیاطین ہیں۔ وه انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں، یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے۔

سورہ البقرہ کی آیت (258) کی تفسیر

﴿ أَلَم تَرَ إِلَى الَّذى حاجَّ إِبرٰهۦمَ فى رَبِّهِ أَن ءاتىٰهُ اللَّهُ المُلكَ إِذ قالَ إِبرٰهۦمُ رَبِّىَ الَّذى يُحيۦ وَيُميتُ قالَ أَنا۠ أُحيۦ وَأُميتُ ۖ قالَ إِبرٰهۦمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأتى بِالشَّمسِ مِنَ المَشرِقِ فَأتِ بِها مِنَ المَغرِبِ فَبُهِتَ الَّذى كَفَرَ ۗ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ ﴾

کیا تونے اسے نہیں دیکھا جو سلطنت پا کر ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا، جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا رب تو وه ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے، وه کہنے لگا میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے تو اسے مغرب کی جانب سے لے آ۔ اب تو وه کافر بھونچکا ره گیا، اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔

سورہ البقرہ کی آیت (259) کی تفسیر

﴿ أَو كَالَّذى مَرَّ عَلىٰ قَريَةٍ وَهِىَ خاوِيَةٌ عَلىٰ عُروشِها قالَ أَنّىٰ يُحيۦ هٰذِهِ اللَّهُ بَعدَ مَوتِها ۖ فَأَماتَهُ اللَّهُ مِا۟ئَةَ عامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ ۖ قالَ كَم لَبِثتَ ۖ قالَ لَبِثتُ يَومًا أَو بَعضَ يَومٍ ۖ قالَ بَل لَبِثتَ مِا۟ئَةَ عامٍ فَانظُر إِلىٰ طَعامِكَ وَشَرابِكَ لَم يَتَسَنَّه ۖ وَانظُر إِلىٰ حِمارِكَ وَلِنَجعَلَكَ ءايَةً لِلنّاسِ ۖ وَانظُر إِلَى العِظامِ كَيفَ نُنشِزُها ثُمَّ نَكسوها لَحمًا ۚ فَلَمّا تَبَيَّنَ لَهُ قالَ أَعلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ ﴾

یا اس شخص کے مانند کہ جس کا گزر اس بستی پر ہوا جو چھت کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی، وه کہنے لگا اس کی موت کے بعد اللہ تعالیٰ اسے کس طرح زنده کرے گا؟(1) تو اللہ تعالی نے اسے مار دیا سو سال کے لئے، پھر اسے اٹھایا، پوچھا کتنی مدت تجھ پر گزری؟ کہنے لگا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ(2)، فرمایا بلکہ تو سو سال تک رہا، پھر اب تو اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ، ہم تجھے لوگوں کے لئے ایک نشانی بناتے ہیں تو دیکھ کہ ہم ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں، جب یہ سب ﻇاہر ہو چکا تو کہنے لگا میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔(3)

اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
صفحہ : 2 آیات : 1 سے 5 صفحہ : 3 آیات : 6 سے 16 صفحہ : 4 آیات : 17 سے 24 صفحہ : 5 آیات : 25 سے 29 صفحہ : 6 آیات : 30 سے 37 صفحہ : 7 آیات : 38 سے 48 صفحہ : 8 آیات : 49 سے 57 صفحہ : 9 آیات : 58 سے 61 صفحہ : 10 آیات : 62 سے 69 صفحہ : 11 آیات : 70 سے 76 صفحہ : 12 آیات : 77 سے 83 صفحہ : 13 آیات : 84 سے 88 صفحہ : 14 آیات : 89 سے 93 صفحہ : 15 آیات : 94 سے 101 صفحہ : 16 آیات : 102 سے 105 صفحہ : 17 آیات : 106 سے 112 صفحہ : 18 آیات : 113 سے 119 صفحہ : 19 آیات : 120 سے 126 صفحہ : 20 آیات : 127 سے 134 صفحہ : 21 آیات : 135 سے 141 صفحہ : 22 آیات : 142 سے 145 صفحہ : 23 آیات : 146 سے 153 صفحہ : 24 آیات : 154 سے 163 صفحہ : 25 آیات : 164 سے 169 صفحہ : 26 آیات : 170 سے 176 صفحہ : 27 آیات : 177 سے 181 صفحہ : 28 آیات : 182 سے 186 صفحہ : 29 آیات : 187 سے 190 صفحہ : 30 آیات : 191 سے 196 صفحہ : 31 آیات : 197 سے 202 صفحہ : 32 آیات : 203 سے 210 صفحہ : 33 آیات : 211 سے 215 صفحہ : 34 آیات : 216 سے 219 صفحہ : 35 آیات : 220 سے 224 صفحہ : 36 آیات : 225 سے 230 صفحہ : 37 آیات : 231 سے 233 صفحہ : 38 آیات : 234 سے 237 صفحہ : 39 آیات : 238 سے 245 صفحہ : 40 آیات : 246 سے 248 صفحہ : 41 آیات : 249 سے 252 صفحہ : 42 آیات : 253 سے 256 صفحہ : 43 آیات : 257 سے 259 صفحہ : 44 آیات : 260 سے 264 صفحہ : 45 آیات : 265 سے 269 صفحہ : 46 آیات : 270 سے 274 صفحہ : 47 آیات : 275 سے 281 صفحہ : 48 آیات : 282 سے 282 صفحہ : 49 آیات : 283 سے 286