صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الشعراء کی آیت (20) کی تفسیر
﴿ قالَ فَعَلتُها إِذًا وَأَنا۠ مِنَ الضّالّينَ ﴾
(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں نے اس کام کو اس وقت کیا تھا جبکہ میں راه بھولے ہوئے لوگوں میں سے تھا.(1)
سورہ الشعراء کی آیت (21) کی تفسیر
﴿ فَفَرَرتُ مِنكُم لَمّا خِفتُكُم فَوَهَبَ لى رَبّى حُكمًا وَجَعَلَنى مِنَ المُرسَلينَ ﴾
پھر تم سے خوف کھا کر میں تم میں سے بھاگ گیا، پھر مجھے میرے رب نے حکم و علم عطا فرمایا اور مجھے اپنے پیغمبروں میں سے کر دیا.(1)
سورہ الشعراء کی آیت (22) کی تفسیر
﴿ وَتِلكَ نِعمَةٌ تَمُنُّها عَلَىَّ أَن عَبَّدتَ بَنى إِسرٰءيلَ ﴾
مجھ پر تیرا کیا یہی وه احسان ہے؟ جسے تو جتا رہا ہے جبکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے.(1)
سورہ الشعراء کی آیت (23) کی تفسیر
﴿ قالَ فِرعَونُ وَما رَبُّ العٰلَمينَ ﴾
فرعون نے کہا رب العالمین کیا (چیز) ہے؟(1)
سورہ الشعراء کی آیت (24) کی تفسیر
﴿ قالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُما ۖ إِن كُنتُم موقِنينَ ﴾
(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو.
سورہ الشعراء کی آیت (25) کی تفسیر
﴿ قالَ لِمَن حَولَهُ أَلا تَستَمِعونَ ﴾
فرعون نے اپنے اردگرد والوں سے کہا کہ کیا تم سن نہیں رہے؟(1)
سورہ الشعراء کی آیت (26) کی تفسیر
﴿ قالَ رَبُّكُم وَرَبُّ ءابائِكُمُ الأَوَّلينَ ﴾
(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا پروردگار ہے.
سورہ الشعراء کی آیت (27) کی تفسیر
﴿ قالَ إِنَّ رَسولَكُمُ الَّذى أُرسِلَ إِلَيكُم لَمَجنونٌ ﴾
فرعون نے کہا (لوگو!) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقیناً دیوانہ ہے.
سورہ الشعراء کی آیت (28) کی تفسیر
﴿ قالَ رَبُّ المَشرِقِ وَالمَغرِبِ وَما بَينَهُما ۖ إِن كُنتُم تَعقِلونَ ﴾
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا! وہی مشرق ومغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب(1) ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو.
سورہ الشعراء کی آیت (29) کی تفسیر
﴿ قالَ لَئِنِ اتَّخَذتَ إِلٰهًا غَيرى لَأَجعَلَنَّكَ مِنَ المَسجونينَ ﴾
فرعون کہنے لگا سن لے! اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا.(1)
سورہ الشعراء کی آیت (30) کی تفسیر
﴿ قالَ أَوَلَو جِئتُكَ بِشَيءٍ مُبينٍ ﴾
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی کھلی چیز لے آؤں؟(1)
سورہ الشعراء کی آیت (31) کی تفسیر
﴿ قالَ فَأتِ بِهِ إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ ﴾
فرعون نے کہا اگر تو سچوں میں سے ہے تو اسے پیش کر.
سورہ الشعراء کی آیت (32) کی تفسیر
﴿ فَأَلقىٰ عَصاهُ فَإِذا هِىَ ثُعبانٌ مُبينٌ ﴾
آپ نے (اسی وقت) اپنی ﻻٹھی ڈال دی جو اچانک کھلم کھلا (زبردست) اﮊدہا بن گئی.(1)
سورہ الشعراء کی آیت (33) کی تفسیر
﴿ وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذا هِىَ بَيضاءُ لِلنّٰظِرينَ ﴾
اور اپنا ہاتھ کھینچ نکالا تو وه بھی اسی وقت ہر دیکھنے والے کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا.(1)
سورہ الشعراء کی آیت (34) کی تفسیر
﴿ قالَ لِلمَلَإِ حَولَهُ إِنَّ هٰذا لَسٰحِرٌ عَليمٌ ﴾
فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا بھئی یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے.(1)
سورہ الشعراء کی آیت (35) کی تفسیر
﴿ يُريدُ أَن يُخرِجَكُم مِن أَرضِكُم بِسِحرِهِ فَماذا تَأمُرونَ ﴾
یہ تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے ہی نکال دے، بتاؤ اب تم کیا حکم دیتے ہو.(1)
سورہ الشعراء کی آیت (36) کی تفسیر
﴿ قالوا أَرجِه وَأَخاهُ وَابعَث فِى المَدائِنِ حٰشِرينَ ﴾
ان سب نے کہا آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیجئے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے.
سورہ الشعراء کی آیت (37) کی تفسیر
﴿ يَأتوكَ بِكُلِّ سَحّارٍ عَليمٍ ﴾
جو آپ کے پاس ذی علم جادو گروں کو لے آئیں.(1)
سورہ الشعراء کی آیت (38) کی تفسیر
﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِميقٰتِ يَومٍ مَعلومٍ ﴾
پھر ایک مقرر دن کے وعدے پر تمام جادوگر جمع کیے گئے.(1)
سورہ الشعراء کی آیت (39) کی تفسیر
﴿ وَقيلَ لِلنّاسِ هَل أَنتُم مُجتَمِعونَ ﴾
اور عام لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ تم بھی مجمع میں حاضر ہوجاؤ گے؟(1)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔