صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الاعراف کی آیت (88) کی تفسیر
﴿ ۞ قالَ المَلَأُ الَّذينَ استَكبَروا مِن قَومِهِ لَنُخرِجَنَّكَ يٰشُعَيبُ وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَكَ مِن قَريَتِنا أَو لَتَعودُنَّ فى مِلَّتِنا ۚ قالَ أَوَلَو كُنّا كٰرِهينَ ﴾
ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا کہ اے شعیب! ہم آپ کو اور جو آپ کے ہمراه ایمان والے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے الّا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاؤ(1) ۔ شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ کیا ہم تمہارے مذہب میں آجائیں گو ہم اس کو مکروه ہی سمجھتے ہوں۔(2)
سورہ الاعراف کی آیت (89) کی تفسیر
﴿ قَدِ افتَرَينا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا إِن عُدنا فى مِلَّتِكُم بَعدَ إِذ نَجّىٰنَا اللَّهُ مِنها ۚ وَما يَكونُ لَنا أَن نَعودَ فيها إِلّا أَن يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا ۚ وَسِعَ رَبُّنا كُلَّ شَيءٍ عِلمًا ۚ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلنا ۚ رَبَّنَا افتَح بَينَنا وَبَينَ قَومِنا بِالحَقِّ وَأَنتَ خَيرُ الفٰتِحينَ ﴾
ہم تو اللہ تعالیٰ پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہو جائیں گے اگر ہم تمہارے دین میں آجائیں اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس سے نجات دی(1) اور ہم سے ممکن نہیں کہ تمہارے مذہب میں پھر آجائیں، لیکن ہاں یہ کہ اللہ ہی نے جو ہمارا مالک ہے مقدر کیا ہو(2)۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں(3)۔ اے ہمارے پروردگار! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے موافق فیصلہ کر دے اور تو سب سے اچھا فیصلہ کرنے واﻻ ہے۔(4)
سورہ الاعراف کی آیت (90) کی تفسیر
﴿ وَقالَ المَلَأُ الَّذينَ كَفَروا مِن قَومِهِ لَئِنِ اتَّبَعتُم شُعَيبًا إِنَّكُم إِذًا لَخٰسِرونَ ﴾
اور ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ اگر تم شعیب (علیہ السلام) کی راه پر چلو گے تو بےشک بڑا نقصان اٹھاؤ گے۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (91) کی تفسیر
﴿ فَأَخَذَتهُمُ الرَّجفَةُ فَأَصبَحوا فى دارِهِم جٰثِمينَ ﴾
پس ان کو زلزلے نے آپکڑا سو وه اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے ره گئے۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (92) کی تفسیر
﴿ الَّذينَ كَذَّبوا شُعَيبًا كَأَن لَم يَغنَوا فيهَا ۚ الَّذينَ كَذَّبوا شُعَيبًا كانوا هُمُ الخٰسِرينَ ﴾
جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی ان کی یہ حالت ہوگئی جیسے ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے(1) ۔ جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی وہی خسارے میں پڑ گئے۔(2)
سورہ الاعراف کی آیت (93) کی تفسیر
﴿ فَتَوَلّىٰ عَنهُم وَقالَ يٰقَومِ لَقَد أَبلَغتُكُم رِسٰلٰتِ رَبّى وَنَصَحتُ لَكُم ۖ فَكَيفَ ءاسىٰ عَلىٰ قَومٍ كٰفِرينَ ﴾
اس وقت شعیب (علیہ السلام) ان سے منھ موڑ کر چلے اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے پروردگار کے احکام پہنچا دیئے تھے اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی۔ پھر میں ان کافر لوگوں پر کیوں رنج کروں۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (94) کی تفسیر
﴿ وَما أَرسَلنا فى قَريَةٍ مِن نَبِىٍّ إِلّا أَخَذنا أَهلَها بِالبَأساءِ وَالضَّرّاءِ لَعَلَّهُم يَضَّرَّعونَ ﴾
اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا کہ وہاں کے رہنے والوں کو ہم نے سختی اور تکلیف میں نہ پکڑا ہو، تاکہ وه گڑ گڑائیں۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (95) کی تفسیر
﴿ ثُمَّ بَدَّلنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الحَسَنَةَ حَتّىٰ عَفَوا وَقالوا قَد مَسَّ ءاباءَنَا الضَّرّاءُ وَالسَّرّاءُ فَأَخَذنٰهُم بَغتَةً وَهُم لا يَشعُرونَ ﴾
پھر ہم نے اس بدحالی کی جگہ خوش حالی بدل دی، یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی اور کہنے لگے کہ ہمارے آباواجداد کو بھی تنگی اور راحت پیش آئی تھی تو ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا(1) اور ان کو خبر بھی نہ تھی۔
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔