صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الاعراف کی آیت (160) کی تفسیر
﴿ وَقَطَّعنٰهُمُ اثنَتَى عَشرَةَ أَسباطًا أُمَمًا ۚ وَأَوحَينا إِلىٰ موسىٰ إِذِ استَسقىٰهُ قَومُهُ أَنِ اضرِب بِعَصاكَ الحَجَرَ ۖ فَانبَجَسَت مِنهُ اثنَتا عَشرَةَ عَينًا ۖ قَد عَلِمَ كُلُّ أُناسٍ مَشرَبَهُم ۚ وَظَلَّلنا عَلَيهِمُ الغَمٰمَ وَأَنزَلنا عَلَيهِمُ المَنَّ وَالسَّلوىٰ ۖ كُلوا مِن طَيِّبٰتِ ما رَزَقنٰكُم ۚ وَما ظَلَمونا وَلٰكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ ﴾
اور ہم نے ان کو باره خاندانوں میں تقسیم کرکے سب کی الگ الگ جماعت مقرر کر دی(1) اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا جب کہ ان کی قوم نے ان سے پانی مانگا کہ اپنے عصا کو فلاں پتھر پر مارو پس فوراً اس سے باره چشمے پھوٹ نکلے۔ ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے کا موقع معلوم کر لیا۔ اور ہم نے ان پر ابر کو سایہ فگن کیا اور ان کو من وسلوی (ترنجبین اور بٹیریں) پہنچائیں، کھاؤ نفیس چیزوں سے جو کہ ہم نے تم کو دی ہیں اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے تھے۔
سورہ الاعراف کی آیت (161) کی تفسیر
﴿ وَإِذ قيلَ لَهُمُ اسكُنوا هٰذِهِ القَريَةَ وَكُلوا مِنها حَيثُ شِئتُم وَقولوا حِطَّةٌ وَادخُلُوا البابَ سُجَّدًا نَغفِر لَكُم خَطيـٰٔتِكُم ۚ سَنَزيدُ المُحسِنينَ ﴾
اور جب ان کو حکم دیا گیا کہ تم لوگ اس آبادی میں جاکر رہو اور کھاؤ اس سے جس جگہ تم رغبت کرو اور زبان سے یہ کہتے جانا کہ توبہ ہے اور جھکے جھکے دروازه میں داخل ہونا ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے۔ جو لوگ نیک کام کریں گے ان کو مزید برآں اور دیں گے۔
سورہ الاعراف کی آیت (162) کی تفسیر
﴿ فَبَدَّلَ الَّذينَ ظَلَموا مِنهُم قَولًا غَيرَ الَّذى قيلَ لَهُم فَأَرسَلنا عَلَيهِم رِجزًا مِنَ السَّماءِ بِما كانوا يَظلِمونَ ﴾
سو بدل ڈاﻻ ان ﻇالموں نے ایک اور کلمہ جو خلاف تھا اس کلمہ کے جس کی ان سے فرمائش کی گئی تھی، اس پر ہم نے ان پر ایک آفت سماوی بھیجی اس وجہ سے کہ وه حکم کو ضائع کرتے تھے۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (163) کی تفسیر
﴿ وَسـَٔلهُم عَنِ القَريَةِ الَّتى كانَت حاضِرَةَ البَحرِ إِذ يَعدونَ فِى السَّبتِ إِذ تَأتيهِم حيتانُهُم يَومَ سَبتِهِم شُرَّعًا وَيَومَ لا يَسبِتونَ ۙ لا تَأتيهِم ۚ كَذٰلِكَ نَبلوهُم بِما كانوا يَفسُقونَ ﴾
اور آپ ان لوگوں سے(1) ، اس بستی والوں کا(2) جو کہ دریائے (شور) کے قریب آباد تھے اس وقت کا حال پوچھئے! جب کہ وه ہفتہ کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان کی مچھلیاں ﻇاہر ہو ہو کر ان کے سامنے آتی تھیں، اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں، ہم ان کی اس طرح پر آزمائش کرتے تھے اس سبب سے کہ وه بےحکمی کیا کرتے تھے۔(1)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔