صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الاعراف کی آیت (105) کی تفسیر
﴿ حَقيقٌ عَلىٰ أَن لا أَقولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الحَقَّ ۚ قَد جِئتُكُم بِبَيِّنَةٍ مِن رَبِّكُم فَأَرسِل مَعِىَ بَنى إِسرٰءيلَ ﴾
میرے لیے یہی شایان ہے کہ بجز سچ کے اللہ کی طرف کوئی بات منسوب نہ کروں، میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی دلیل بھی ﻻیا ہوں(1) ، سو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔(2)
سورہ الاعراف کی آیت (106) کی تفسیر
﴿ قالَ إِن كُنتَ جِئتَ بِـٔايَةٍ فَأتِ بِها إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ ﴾
فرعون نے کہا، اگر آپ کوئی معجزه لے کر آئے ہیں تو اس کو اب پیش کیجئے! اگر آپ سچے ہیں۔
سورہ الاعراف کی آیت (107) کی تفسیر
﴿ فَأَلقىٰ عَصاهُ فَإِذا هِىَ ثُعبانٌ مُبينٌ ﴾
پس آپ نے اپنا عصا ڈال دیا، سو دفعتاً وه صاف ایک اﮊدھا بن گیا۔
سورہ الاعراف کی آیت (108) کی تفسیر
﴿ وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذا هِىَ بَيضاءُ لِلنّٰظِرينَ ﴾
اور اپنا ہاتھ باہر نکالا سو وه یکایک سب دیکھنے والوں کے روبرو بہت ہی چمکتا ہوا ہو گیا۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (109) کی تفسیر
﴿ قالَ المَلَأُ مِن قَومِ فِرعَونَ إِنَّ هٰذا لَسٰحِرٌ عَليمٌ ﴾
قوم فرعون میں جو سردار لوگ تھے انہوں نے کہا کہ واقعی یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (110) کی تفسیر
﴿ يُريدُ أَن يُخرِجَكُم مِن أَرضِكُم ۖ فَماذا تَأمُرونَ ﴾
یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری سرزمین سے باہر کر دے سو تم لوگ کیا مشوره دیتے ہو۔
سورہ الاعراف کی آیت (111) کی تفسیر
﴿ قالوا أَرجِه وَأَخاهُ وَأَرسِل فِى المَدائِنِ حٰشِرينَ ﴾
انہوں نے کہا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دیجئے اور شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیجئے۔
سورہ الاعراف کی آیت (112) کی تفسیر
﴿ يَأتوكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَليمٍ ﴾
کہ وه سب ماہر جادو گروں کو آپ کے پاس ﻻ کر حاضر کر دیں۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (113) کی تفسیر
﴿ وَجاءَ السَّحَرَةُ فِرعَونَ قالوا إِنَّ لَنا لَأَجرًا إِن كُنّا نَحنُ الغٰلِبينَ ﴾
اور وه جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے، کہنے لگے کہ اگر ہم غالب آئے تو ہم کو کوئی بڑا صلہ ملے گا؟۔
سورہ الاعراف کی آیت (114) کی تفسیر
﴿ قالَ نَعَم وَإِنَّكُم لَمِنَ المُقَرَّبينَ ﴾
فرعون نے کہا کہ ہاں اور تم مقرب لوگوں میں داخل ہو جاؤ گے۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (115) کی تفسیر
﴿ قالوا يٰموسىٰ إِمّا أَن تُلقِىَ وَإِمّا أَن نَكونَ نَحنُ المُلقينَ ﴾
ان ساحروں نے عرض کیا کہ اے موسیٰ! خواه آپ ڈالئے اور یا ہم ہی ڈالیں؟(1)
سورہ الاعراف کی آیت (116) کی تفسیر
﴿ قالَ أَلقوا ۖ فَلَمّا أَلقَوا سَحَروا أَعيُنَ النّاسِ وَاستَرهَبوهُم وَجاءو بِسِحرٍ عَظيمٍ ﴾
(موسیٰ علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ہی ڈالو(1) ، پس جب انہوں نے ڈاﻻ تو لوگوں کی نظر بندی کر دی اور ان پر ہیبت غالب کر دی اور ایک طرح کا بڑا جادو دکھلایا۔(2)
سورہ الاعراف کی آیت (117) کی تفسیر
﴿ ۞ وَأَوحَينا إِلىٰ موسىٰ أَن أَلقِ عَصاكَ ۖ فَإِذا هِىَ تَلقَفُ ما يَأفِكونَ ﴾
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دیجئے! سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے ان کے سارے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کیا۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (118) کی تفسیر
﴿ فَوَقَعَ الحَقُّ وَبَطَلَ ما كانوا يَعمَلونَ ﴾
پس حق ﻇاہر ہوگیا اور انہوں نے جو کچھ بنایا تھا سب جاتا رہا۔
سورہ الاعراف کی آیت (119) کی تفسیر
﴿ فَغُلِبوا هُنالِكَ وَانقَلَبوا صٰغِرينَ ﴾
پس وه لوگ اس موقع پر ہار گئے اور خوب ذلیل ہوکر پھرے۔
سورہ الاعراف کی آیت (120) کی تفسیر
﴿ وَأُلقِىَ السَّحَرَةُ سٰجِدينَ ﴾
اور وه جو ساحر تھے سجده میں گر گئے۔
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔