صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الاعراف کی آیت (164) کی تفسیر
﴿ وَإِذ قالَت أُمَّةٌ مِنهُم لِمَ تَعِظونَ قَومًا ۙ اللَّهُ مُهلِكُهُم أَو مُعَذِّبُهُم عَذابًا شَديدًا ۖ قالوا مَعذِرَةً إِلىٰ رَبِّكُم وَلَعَلَّهُم يَتَّقونَ ﴾
اور جب کہ ان میں سے ایک جماعت نے یوں کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ بالکل ہلاک کرنے واﻻ ہے یا ان کو سخت سزا دینے واﻻ ہے؟(1) انہو ں نے جواب دیا کہ تمہارے رب کے روبرو عذر کرنے کے لیے اور اس لیے کہ شاید یہ ڈر جائیں۔
سورہ الاعراف کی آیت (165) کی تفسیر
﴿ فَلَمّا نَسوا ما ذُكِّروا بِهِ أَنجَينَا الَّذينَ يَنهَونَ عَنِ السّوءِ وَأَخَذنَا الَّذينَ ظَلَموا بِعَذابٍ بَـٔيسٍ بِما كانوا يَفسُقونَ ﴾
سو جب وه اس کو بھول گئے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا(1) تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو اس بری عادت سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو کہ زیادتی کرتے تھے ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا اس وجہ سے کہ وه بےحکمی کیا کرتے تھے۔(2)
سورہ الاعراف کی آیت (166) کی تفسیر
﴿ فَلَمّا عَتَوا عَن ما نُهوا عَنهُ قُلنا لَهُم كونوا قِرَدَةً خٰسِـٔينَ ﴾
یعنی جب وه، جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا اس میں حد سے نکل گئے تو ہم نے ان کو کہہ دیا تم ذلیل بندر بن جاؤ۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (167) کی تفسیر
﴿ وَإِذ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبعَثَنَّ عَلَيهِم إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ مَن يَسومُهُم سوءَ العَذابِ ۗ إِنَّ رَبَّكَ لَسَريعُ العِقابِ ۖ وَإِنَّهُ لَغَفورٌ رَحيمٌ ﴾
اور وه وقت یاد کرنا چاہیئے کہ آپ کے رب نے یہ بات بتلا دی کہ وه ان یہود پر قیامت تک ایسے شخص کو ضرور مسلط کرتا رہے گا(1) جو ان کو سزائے شدید کی تکلیف پہنچاتا رہے گا، بلاشبہ آپ کا رب جلدی ہی سزا دے دیتا ہے اور بلاشبہ وه واقعی بڑی مغفرت اور بڑی رحمت واﻻ ہے۔(2)
سورہ الاعراف کی آیت (168) کی تفسیر
﴿ وَقَطَّعنٰهُم فِى الأَرضِ أُمَمًا ۖ مِنهُمُ الصّٰلِحونَ وَمِنهُم دونَ ذٰلِكَ ۖ وَبَلَونٰهُم بِالحَسَنٰتِ وَالسَّيِّـٔاتِ لَعَلَّهُم يَرجِعونَ ﴾
اور ہم نے دنیا میں ان کی مختلف جماعتیں کر دیں۔ بعض ان میں نیک تھے اور بعض ان میں اور طرح تھے اور ہم ان کو خوش حالیوں اور بدحالیوں سے آزماتے رہے کہ شاید باز آجائیں۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (169) کی تفسیر
﴿ فَخَلَفَ مِن بَعدِهِم خَلفٌ وَرِثُوا الكِتٰبَ يَأخُذونَ عَرَضَ هٰذَا الأَدنىٰ وَيَقولونَ سَيُغفَرُ لَنا وَإِن يَأتِهِم عَرَضٌ مِثلُهُ يَأخُذوهُ ۚ أَلَم يُؤخَذ عَلَيهِم ميثٰقُ الكِتٰبِ أَن لا يَقولوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الحَقَّ وَدَرَسوا ما فيهِ ۗ وَالدّارُ الءاخِرَةُ خَيرٌ لِلَّذينَ يَتَّقونَ ۗ أَفَلا تَعقِلونَ ﴾
پھر ان کے بعد ایسے لوگ ان کے جانشین ہوئے(1) کہ کتاب کو ان سے حاصل کیا وه اس دنیائے فانی کا مال متاع لے لیتے ہیں(2) اور کہتے ہیں کہ ہماری ضرور مغفرت ہو جائے گی(3) حاﻻنکہ اگر ان کے پاس ویسا ہی مال متاع آنے لگے تو اس کو بھی لے لیں گے۔ کیا ان سے اس کتاب کے اس مضمون کا عہد نہیں لیا گیا کہ اللہ کی طرف بجز حق بات کے اور کسی بات کی نسبت نہ کریں(4)، اور انہوں نے اس کتاب میں جو کچھ تھا اس کو پڑھ لیا(4) اور آخرت واﻻ گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ رکھتے ہیں، پھر کیا تم نہیں سمجھتے۔
سورہ الاعراف کی آیت (170) کی تفسیر
﴿ وَالَّذينَ يُمَسِّكونَ بِالكِتٰبِ وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ إِنّا لا نُضيعُ أَجرَ المُصلِحينَ ﴾
اور جو لوگ کتاب کے پابند ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں، ہم ایسے لوگوں کا جو اپنی اصلاح کریں ﺛواب ضائع نہ کریں گے۔(1)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔